ٹھٹہ ضلع میں پانی کی قلت کے خلاف قومی شاہراہ پر مختلف مقامات پر دھرنے، ٹریفک معطل

آبادگاروں، مال مویشی پالنے والوں، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور شہریوں کی جانب سے مختلف مقامات پر دھرنے دیے گئے

ٹھٹہ ضلع میں پانی کی قلت کے خلاف قومی شاہراہ پر مختلف مقامات پر دھرنے، ٹریفک معطل

ٹھٹہ (محمد شفیق بھٹی) ٹھٹہ ضلع کے مختلف علاقوں میں نہروں، شاخوں اور نالوں میں گزشتہ ایک ماہ سے پانی کی مسلسل بندش کے خلاف آبادگاروں، مالوندوں، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور شہری عوام نے شدید احتجاج کرتے ہوئے مختلف مقامات پر دھرنے دیے اور قومی شاہراہیں بند کر دیں، جس کے باعث ٹریفک معطل ہو گئی اور سینکڑوں گاڑیاں پھنس کر رہ گئیں۔ ٹھٹہ تعلقہ کے آبادگاروں نے مکلی بائی پاس پر احتجاجی دھرنا دے کر ٹھٹہ–کراچی قومی شاہراہ مکمل طور پر بند کر دی۔ احتجاج کی قیادت ضلعی صدر چیمبر آف کامرس شاہنواز بروہی، عوامی تحریک کے رہنما گھنوَر خان زنئور، پی ٹی آئی رہنما امجد شاہ، طاہر درس، ستار جوکھیو اور دیگر نے کی۔ مظاہرین نے پانی کی قلت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور کہا کہ پانی نہ ہونے کے باعث فصلیں سوکھ رہی ہیں جبکہ آبادگار لاکھوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔ دھرنے کے باعث قومی شاہراہ پر ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو گئی۔ بعد ازاں ایس ایچ او مکلی اللہ وسایا نوہڑی دھرنے کی جگہ پہنچے، مظاہرین سے مذاکرات کیے اور آبپاشی حکام سے رابطہ کر کے دو دن کے اندر نہروں اور شاخوں میں پانی چھوڑنے کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد مظاہرین نے پرامن طور پر دھرنا ختم کر دیا۔ تاہم یہ واضح کیا گیا کہ اگر مقررہ مدت کے اندر پانی نہ چھوڑا گیا تو دوبارہ احتجاج کیا جائے گا۔ دوسری جانب یوسی سونڈا میں سونڈا نالہ بند ہونے کے باعث شدید پانی بحران کے خلاف عوام نے ٹھٹہ–حیدرآباد مین نیشنل ہائی وے بلاک کر کے تین گھنٹے تک زبردست احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ کراچی واہ کی تعمیر کے باعث کینجھر جھیل کے ہیڈ ریگولیٹر سے آنے والے متبادل راستے کا پانی جان بوجھ کر بند کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے سونڈا اور اطراف کے دیہات میں پینے کا پانی نایاب ہو گیا ہے۔ احتجاج میں سماجی کارکنوں، صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جنہوں نے “پانی نہیں تو کیوں بھلا کربلا کربلا، یوسی کو پانی دو، مصنوعی پانی بحران ختم کرو” کے زوردار نعرے لگائے۔ سڑک بند ہونے کے باعث قومی شاہراہ کے دونوں اطراف سینکڑوں گاڑیاں کھڑی رہیں۔ تین گھنٹے کے احتجاج کے بعد ایس ٹی پی ضلع ٹھٹہ کے صدر سید جلال شاہ دھرنے کی جگہ پہنچے اور عوام کو یقین دہانی کرائی کہ انجینئروں سے بات چیت ہو چکی ہے اور شام تک سونڈا نالے میں پانی چھوڑ دیا جائے گا، جس کے بعد سڑک کھول دی گئی اور ٹریفک بحال ہو گئی۔ مظاہرین اور آبادگاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر پانی کی فراہمی مستقل طور پر بحال نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، جس کی مکمل ذمہ داری محکمہ آبپاشی اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہو گی۔