عمرکوٹ میں ٹرانسپورٹروں کی مشترکہ پریس کانفرنس، بس اڈہ شہر سے باہر منتقل کرنے کی حمایت

بس اڈہ شہر سے باہر منتقل کرنے کے لیے گزشتہ دو برسوں سے انتظامیہ کی جانب سے ہم پر زور دیا جا رہا تھا

عمرکوٹ میں ٹرانسپورٹروں کی مشترکہ پریس کانفرنس، بس اڈہ شہر سے باہر منتقل کرنے کی حمایت

عمرکوٹ (رپورٹ: کانجی مل رکھیسر) ٹرانسپورٹروں نے کہا کہ بس اڈہ شہر سے باہر منتقل کرنے کے لیے دو سال سے انتظامیہ ہم پر زور دے رہی تھی، اور بس اڈہ باہر شفٹ کرنا ایک بہترین عمل ہے۔ شہر میں بس اڈہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات پیش آتی تھیں۔ فیصل ناگوری، کاکا پنہور اور سرور راجپوت نے کہا کہ بس اڈہ شہر میں ہونے کے باعث ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولینسیں بھی گزر نہیں سکتی تھیں، ٹریفک جام کی وجہ سے عوام پریشان رہتی تھی۔ ٹرانسپورٹروں نے کہا کہ اب شہر میں ٹریفک کا نظام بہتر ہو گیا ہے اور کسی قسم کی رش نہیں ہوتی۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی اتھارٹی سندھ کی جانب سے ہمیں بی کلاس ٹرمینل کا لائسنس جاری کیا گیا ہے اور شہر سے باہر یو کے بس اڈہ قائم کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے پاس نیا اڈہ تعمیر کرنے کے لیے زمین موجود نہیں تھی۔ فیصل ناگوری نے کہا کہ جو لوگ بس اڈہ شہر سے باہر منتقل کرنے کے خلاف شور مچا رہے ہیں، انہیں عوام کی تکلیف کا احساس نہیں بلکہ ذاتی مفادات عزیز ہیں۔ کاکا پنہور نے کہا کہ ہماری بھرپور کوشش ہے کہ مسافروں کو مکمل سہولیات فراہم کی جائیں۔ سرور راجپوت نے کہا کہ تمام ٹرانسپورٹروں کی کوشش ہے کہ قلیل وقت میں نئے بس ٹرمینل پر عوام کو کھانے پینے سمیت تمام سفری سہولیات فراہم کی جائیں۔ یہ باتیں فیصل ناگوری، کاکا پنہور، سرور راجپوت، ثناء اللہ دل، اکرم راجپوت اور حاجی جیئند راجڑ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہیں۔