حکومت مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے،سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے،وزیراعظم محمد شہباز شریف

پاکستان زراعت، صنعت ،کانکنی، اے آئی اور آئی ٹی کے شعبوں میں تیزی سے اڑان بھرنے والا ہے، وزیراعظم

حکومت مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے،سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے،وزیراعظم محمد شہباز شریف

ڈیووس۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے برآمدات پر مبنی ترقی حاصل کرنے اور سماجی اشاریوں کو مسلسل مشترکہ کاوشوں سے بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان زراعت، صنعت ،کانکنی، اے آئی اور آئی ٹی کے شعبوں میں تیزی سے اڑان بھرنے والا ہے، حکومت مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے،سیاسی قیادت اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے،ملکی نظام میں بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی گئی ہیں،ریونیو اکٹھا کرنے کے نظام کو مکمل ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے،مہنگائی کی شرح 30 فیصد سے کم ہو کر 5.5 فیصد ہو گئی ہے،پالیسی ریٹ 22.5 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد ہو گیا ہے،جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس وصولی کی شرح 10.5 فیصد ہو گئی ہے،چین کے ساتھ ہمارے مضبوط معاشی روابط ہیں،اب ہم نے امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہیں،کانکنی اور معدنیات کے شعبے کی ترقی کے لیے امریکی اور چینی کمپنیوں سے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں،گزشتہ چند سالوں میں آئی ٹی برآمدات میں نمایاں بہتری ہوئی ہے،نوجوان نسل کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے ذریعے بااختیار بنانے کے لیے بہت سے پروگرام شروع کیے ہیں،پی آئی اے کی شفاف نجکاری کے بعد دیگراداروں کی نجکاری کی طرف بڑھ رہے ہیں،بے لوث قربانیوں، ان تھک محنت اور فکر و عمل کی وحدت کے ساتھ ملک کی خدمت کے لیے پرعزم رہے تو بہت جلد اپنی منزل تک پہنچ جائیں گے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو عالمی اقتصادی فورم کے 56 ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر پاکستان پویلین میں پاکستان بریک فاسٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ یہاں موجودگی واقعی بہت اعزاز اور خوشی کی بات ہے،پاکستان اب کامیابی کے احساس اور ایک مقصد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے،ہمارے بڑے معاشی اشاریے بہت تسلی بخش ہیں،مہنگائی کی شرح 30 فیصد سے کم ہو کر 5.5 فیصد ہو گئی ہے،ہمارا پالیسی ریٹ انتہائی بلند سطح 22.5 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد ہو گیا ہے،ہماری آئی ٹی برامدات تسلی بخش رفتار سے بڑھ رہی ہیں، اگرچہ ہماری مجموعی برآمدات مختلف قسم کا چیلنجز کا سامنا کرتی رہی ہیں اور یقیناً ہمارے سماجی اشاریوں کو مشترکہ کاوش سے بہتر بنانے کی ضرورت ہےتاہم آگے بڑھنے کا راستہ بالکل واضح ہے، پاکستان کو برآمدات پر مبنی ترقی حاصل کرنا ہوگی،ہم نے اپنے نظام میں بنیادی ڈھانچے جاتی تبدیلیاں لائی ہیں، ریونیو اکٹھا کرنے کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں کی ہیں اور اب اسے مکمل ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے،جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس وصولی کی شرح 10.5 فیصد ہے جو کہ کچھ سال پہلے نو فیصد تھی، یہ ایک اہم کامیابی ہے،گزشتہ سال ہماری زرعی برآمدات بہت تسلی بخش رہی ہیں،اب ہم کانکنی اور معدنیات کے کاروبار میں بڑے پیمانے پر داخل ہو چکے ہیں، ہم نے امریکی کمپنیوں اور چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کیے اور مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کر رکھے ہیں، پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے لا محدود قدرتی وسائل سے نوازا ہے،یہ قدرتی وسائل اب بھی پاکستان کے شمالی پہاڑوں گلگت بلتستان ازاد کشمیر، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دفن ہیں،اب ہم نے برق رفتاری سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم کرپٹو، اے آئی اور آئی ٹی کے شعبے میں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، گزشتہ چند سالوں میں آئی ٹی برامدات میں نمایاں بہتری ہوئی ہے،اس ضمن میں ہم بہت سے جدید آلات لائے ہیں جنہوں نے آئی ٹی برآمدات کو آسان بنایاہے اور ہماری آئی ٹی برآمدات با ضابطہ طور پر سالانہ تین ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کی بڑی تعداد ایک چیلنج کے ساتھ ساتھ ہمارے لیے ایک بڑا موقع بھی ہے ، حکومت پاکستان نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر نوجوان نسل کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے ذریعے بااختیار بنانے کے لیے بہت سے پروگرام شروع کیے ہیں، نیوٹیک وفاقی سطح کا ایک ادارہ ہے جو ہماری نوجوان نسل کو جدید تربیت فراہم کرتا ہے، یہ تربیتی پروگرام غیر جانبدار اداروں سے باقاعدہ تصدیق شدہ ہیں اور بین الاقوامی طور پر سند یافتہ بھی ہیں، اس کے نتیجے میں ہماری نوجوان نسل خلیجی ممالک اور دنیا کے دیگر حصوں میں بہترین ملازمتیں حاصل کر رہی ہے کیونکہ وہ انتہائی قابلیت کے حامل اور بہترین تربیت یافتہ ہیں اور اپنے شعبے کی بین الاقوامی کمپنیوں سے سند یافتہ بھی ہیں۔