پاکستانی سیاستدانوں کے پارلیمانی کمیٹی اجلاس میں کبھی کبھی ایسے لمحات بھی آتے ہیں جو کسی سنجیدہ اجلاس سے زیادہ کسی مزاحیہ تھیٹر کا منظر لگتے ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فوڈ سکیورٹی کے حالیہ اجلاس میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا، جب CAMELL نامی ایک ترقیاتی منصوبہ پندرہ منٹ تک اونٹ بنا رہا۔ اور پھر اچانک کسی نے توجہ دلائی اور بتایا کہ حضور! یہ اونٹ نہیں، تھرپارکر کا کمیونٹی ایکشن پلان فار منیجمنٹ آف سسٹین ایبل ایکوسسٹم لائیوز اینڈ لائیولی ہُڈ ہے۔ یوں ایک مخفف نے پورے ایوان کو ریگستان کی سیر کرا دی۔
اصل مسئلہ شاید صرف ہجے کا نہیں تھا، بلکہ ہمارے انتظامی اور سیاسی کلچر کا تھا، جہاں فائلیں مخففات میں چلتی ہیں، منصوبے انگریزی میں سانس لیتے ہیں، اور نمائندے کبھی کبھی ان کے معنی تک پہنچنے سے پہلے ہی رائے قائم کر لیتے ہیں۔ CAMELL کو Camel سمجھ لینا محض لغوی غلطی نہیں، بلکہ اس نظام کی علامت ہے جس میں الفاظ حقیقت سے زیادہ طاقتور ہو جاتے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے اجلاس کا آغاز ہی اس سوال سے کیا کہ تھرپارکر میں اونٹوں کے تحفظ اور افزائش کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ سوال بظاہر معصوم، بلکہ تھر کے تناظر میں تو نہایت موزوں بھی لگتا ہے۔ جب تھر کا نام آئے اور اونٹ یاد نہ آئے، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ مگر یہاں مسئلہ یہ تھا کہ بحث اونٹ پر نہیں، ایک ترقیاتی منصوبے پر ہونی تھی۔ مگر چونکہ منصوبے کا مخفف CAMELL تھا، اس لیے اونٹ کو بھی اجلاس میں بلالیا گیا۔
پندرہ منٹ تک ایوان میں اونٹوں کی افزائش، ان کے چارے، ان کی نسلوں اور ان کی فلاح پر گفتگو ہوتی رہی۔ وزیر مملکت نے بھی نہایت سنجیدگی سے فرمایا کہ اونٹوں کی افزائش پر کام ہو رہا ہے اور اگلے اجلاس میں مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔ گویا پورا سرکاری ڈھانچہ ایک ایسے اونٹ کی تلاش میں نکل چکا تھا جس کا وجود ہی مخفف کی غلط فہمی پر قائم تھا۔
یہ منظر محض مزاحیہ نہیں، بلکہ فکرانگیز بھی ہے۔ کیونکہ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ہم واقعی اپنے زیرِ بحث منصوبوں کی تفصیلات سے آگاہ ہوتے ہیں؟ یا ہم مخففات، بریفنگ نوٹس اور ادھوری تیاری کے سہارے اجلاس نمٹا دیتے ہیں؟ اگر ایک کمیٹی پندرہ منٹ تک یہ طے نہ کر سکے کہ وہ اونٹ پر بات کر رہی ہے یا ایک ایکشن پلان پر، تو عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ باقی پیچیدہ امور پر ایسے اجلاسوں کیا کیفیت ہوتی ہوگی۔
سینیٹر دنیش کمار کا یہ جملہ کہ ی جی کیا تفصیلات بتائیں گے، ان کو تو کیمل کے اسپیلنگ بھی ٹھیک سے نہیں آتے گو کہ طنزیہ تھا، مگر اس میں ہمارے ادارہ جاتی رویوں کی ایک جھلک بھی تھی۔ ہم اکثر مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کے بجائے ایک دوسرے کی قابلیت پر سوال اٹھا کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ جیسے اصل مسئلہ اونٹ نہیں، بلکہ ہجے تھے۔
ممبر پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل نے بالآخر وضاحت کی کہ "سر، یہ camell پراجیکٹ ہے، اونٹ نہیں ہے۔ اس وضاحت میں شاید اس اجلاس کا سب سے زیادہ علمی وزن تھا۔ مگر چیئرمین کا سوال بھی کم معنی خیز نہ تھا: کیمل تو ایک ہی ہوتا ہے، آپ کس کی بات کر رہے ہیں؟" یہ جملہ اپنی سادگی میں گہرا طنز سموئے ہوئے ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں اکثر چیزیں ایک ہی سمجھی جاتی ہیں، چاہے وہ دراصل کئی جہتیں رکھتی ہوں۔
جب پندرہ منٹ بعد حقیقت واضح ہوئی تو کمیٹی ارکان کی ہنسی چھوٹ گئی۔ ہنسی آنا فطری تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا عوام بھی اسی طرح ہنس دے؟ یا وہ سوچے کہ ان کے مسائل بھی کہیں کسی مخفف کی غلط فہمی میں تو نہیں الجھے ہوئے؟
CAMELL دراصل تھرپارکر کے پائیدار ماحولیاتی نظام اور معاشی ذرائع کے انتظام سے متعلق ایک کمیونٹی ایکشن پلان ہے۔ تھر، جہاں پانی کی کمی، غذائی قلت، موسمیاتی تبدیلی اور غربت جیسے سنگین مسائل موجود ہیں، وہاں ایسے منصوبے نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ مگر جب ان منصوبوں پر بحث ہی مخفف کی سطح پر اٹک جائے، تو اصل مقصد پس منظر میں چلا جاتا ہے۔
یہ واقعہ ہمارے سرکاری کلچر کی ایک اور کمزوری بھی عیاں کرتا ہے، انگریزی مخففات کا بے تحاشا استعمال۔ ہر منصوبہ ایک لمبے چوڑے انگریزی نام اور اس کے مخفف کے ساتھ آتا ہے۔ کبھی SAP، کبھی PSDP، کبھی CPEC، اور اب CAMELL۔ شاید ہمیں لگتا ہے کہ مخفف جتنا پیچیدہ ہوگا، منصوبہ اتنا ہی سنجیدہ لگے گا۔ مگر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مخفف کبھی اونٹ بن جاتا ہے، کبھی کچھ اور۔
یہ طنز صرف سینیٹ تک محدود نہیں۔ ہماری بیوروکریسی، ہمارے تعلیمی ادارے، حتیٰ کہ غیر سرکاری تنظیمیں بھی مخففات کی ایک ایسی دنیا میں رہتی ہیں جہاں اصل مفہوم کہیں کھو جاتا ہے۔ فائلوں میں الفاظ ہوتے ہیں، مگر زمین پر حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔ اجلاسوں میں پاورپوائنٹ پریزنٹیشنز ہوتی ہیں، مگر دیہات میں پانی اب بھی نایاب ہوتا ہے۔
اونٹ، ویسے بھی، ہمارے سیاسی کلچر کی ایک علامت بن چکا ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ "اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، کبھی کہا جاتا ہے کہ اونٹ کے منہ میں زیرہ۔ اس اجلاس میں تو اونٹ بیٹھنے سے پہلے ہی غائب ہو گیا۔ مگر اس نے ہمیں آئینہ ضرور دکھا دیا۔
مزاح کی بات اپنی جگہ، مگر اس واقعے میں ایک سنجیدہ پیغام بھی ہے۔ قانون ساز اداروں میں بیٹھے نمائندوں کی تیاری، ان کی بریفنگ، اور ان کی ذمہ داری محض رسمی نہیں ہونی چاہیے۔ ہر منصوبہ، خاص طور پر وہ جو پسماندہ علاقوں سے متعلق ہو، مکمل سمجھ بوجھ اور سنجیدگی کا متقاضی ہوتا ہے۔ اگر پندرہ منٹ مخفف سمجھنے میں لگ جائیں، تو اصل بحث کے لیے کتنا وقت بچے گا؟
یہ بھی ممکن ہے کہ اس واقعے کو محض ایک انسانی غلطی سمجھ کر نظر انداز کر دیا جائے۔ آخر انسان ہیں، غلطی ہو جاتی ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ غلطی کسی نجی محفل میں نہیں، بلکہ ایک سرکاری کمیٹی کے اجلاس میں ہوئی۔ اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ملک کو ماحولیاتی، غذائی اور معاشی چیلنجز درپیش ہیں۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا ہمارے نمائندوں کو انگریزی اصطلاحات اور مخففات کی اس یلغار سے بچانے کے لیے کوئی نظام موجود ہے؟ کیوں نہ منصوبوں کے نام سادہ اردو یا علاقائی زبانوں میں رکھے جائیں؟ اگر CAMELL کی جگہ اسے تھر پائیدار ترقی منصوبہ کہا جاتا، تو شاید اونٹ اجلاس میں داخل نہ ہوتا۔
اس واقعے کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی نے بھی ابتدا میں یہ سوال نہیں اٹھایا کہ آیا ایجنڈا کیا ہے۔ سب نے یہ فرض کر لیا کہ CAMELL کا مطلب Camel ہی ہے۔ گویا ہم سب نے ایک اجتماعی مفروضہ قائم کر لیا تھا۔ یہی رویہ اکثر پالیسی سازی میں بھی نظر آتا ہے، جہاں مفروضے حقائق پر حاوی ہو جاتے ہیں۔
جب ہنسی تھم گئی ہوگی اور اجلاس آگے بڑھ گیا ہوگا، تو شاید فائل میں صرف ایک مختصر نوٹ درج ہوا ہوگا۔ مگر پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کی تاریخ میں یہ لمحہ ایک دلچسپ حاشیہ بن کر رہ جائے گا، وہ دن جب ایک مخفف اونٹ بن گیا، اور ایوانِ بالا نے پندرہ منٹ ریگستان میں گزار دیے۔
سوال اب بھی وہی ہے، کیا ہم آئندہ مخففات کو سمجھ کر بحث کریں گے، یا ہر نیا منصوبہ پہلے کسی جانور، پرندے یا محاورے میں ڈھل کر ہی اپنی اصل پہچان پائے گا؟ اگر ہم نے اس واقعے سے سبق نہ سیکھا، تو کل کو کوئی FISH پراجیکٹ آ جائے گا اور ہم دریا میں جال ڈالنے لگیں گے۔
اونٹ تو چلا گیا، مگر اس کی پرچھائیں ابھی تک ایوان کی دیواروں پر موجود ہے۔ شاید وہ ہمیں یاد دلا رہی ہے کہ سنجیدہ ذمہ داریوں کے ساتھ تھوڑی سی تیاری بھی ضروری ہوتی ہے۔ ورنہ مخففات یونہی ہمیں ریگستان کی سیر کراتے رہیں گے، اور اصل مسائل فائلوں میں پانی ڈھونڈتے رہیں گے۔
0 تبصرے