ٹھٹہ (ڈ ر) – ٹھٹہ شہر کے مین اسٹاپ اور آس پاس کے علاقوں میں بڑھتی ہوئی غیر قانونی تجاوزات کے خلاف ضلعی انتظامیہ نے باقاعدہ اینٹی انکروچمنٹ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
کارروائی اسسٹنٹ کمشنر ٹھٹہ فہیم شاڪر اور مختیارکار اقتدار رسول بهراڻي کی قیادت میں کی گئی، جبکہ ڈپٹی کمشنر ٹھٹہ سرمد علی بھاگت بھی موقع پر پہنچ کر آپریشن کی نگرانی کر رہے تھے اور عملے کو خصوصی ہدایات جاری کیں۔
انتظامیہ کے مطابق مین نیشنل ہائی وے اور شہر کے اہم مقامات پر قائم غیر قانونی چھاپرے، دکانیں، ہوٹلز اور دیگر عارضی و مستقل تعمیرات ٹریفک کی روانی اور شہر کی خوبصورتی میں رکاوٹ بن رہی تھیں، جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔
آپریشن کے دوران اینٹی انکروچمنٹ فورس، میونسپل عملہ، ریونیو عملہ، مختیارکار آفس کی ٹیم اور پولیس کی بڑی نفری موجود تھی، جبکہ سٹی سروئیر ٹھٹہ اور ان کی ٹیم نے تجاوزات کی نشاندہی کر کے نشان لگائے۔
انتظامیہ نے کہا کہ کارروائی بغیر کسی امتیاز کے جاری ہے اور سڑکوں اور سرکاری زمین سے مکمل طور پر تجاوزات ختم کی جائیں گی۔ بڑے عمارتوں اور دکانوں کے مالکان کو بھی خبردار کیا گیا کہ وہ اپنی تجاوزات فوری طور پر ختم کریں، ورنہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں مقدمات درج کرنا اور عمارتیں گرانا بھی شامل ہو سکتا ہے۔
کارروائی کے دوران کچھ دکانداروں نے الزام لگایا کہ کارروائی من پسند افراد کے خلاف نہیں کی جا رہی، تاہم انتظامیہ نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔
شہریوں کی بڑی تعداد نے آپریشن کی حمایت کی اور کہا کہ تجاوزات کی وجہ سے ٹریفک جام، حادثات اور شہری بدانتظامی میں اضافہ ہو رہا تھا، جس کا خاتمہ ضروری تھا۔
ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ شہر کی بحالی، ٹریفک کی روانی اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اینٹی انکروچمنٹ آپریشن جاری رہے گا اور کسی بھی غیر قانونی تجاوزات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
0 تبصرے