10برسوں سے کوشش کر رہا ہوں کہ قوم پرست پارلیمانی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر ایک ہی انتخابی نشان پر الیکشن لڑا جائے
بدین میں ایس ٹی پی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ
متنازع کینالوں کے معاملے پر ہماری جاری بڑی تحریک کو ہائی جیک کر لیا گیا ہے۔
کالے کوٹ والوں کے نامکمل فیصلوں نے کینالوں کی تحریک کو سبوتاژ کیا۔
ہم دریائے سندھ کے پانی اور سندھ کی قومی وحدت پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، آخر تک جدوجہد کریں گے۔
میں گزشتہ دس برسوں سے کوشش کر رہا ہوں کہ قوم پرست پارلیمانی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر ایک ہی انتخابی نشان پر الیکشن لڑا جائے۔
کچھ قوم پرست پیر پگاڑا کے کندھے پر ہیں جبکہ کچھ پی ٹی آئی کے بانی کے کندھے پر سوار ہیں، وہی انہیں آپس میں لڑوا رہے ہیں۔
اگر وفاقی حکومت نے کینال بنا کر پانی چوری کیا تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
بدین سمیت پورے سندھ میں منشیات کی سرپرستی ایم پی ایز اور ایم این ایز کر رہے ہیں، یہی لوگ ڈاکوؤں کی بھی سرپرستی کرتے ہیں۔
صورتحال یہ ہے کہ لوگ اغوا ہو رہے ہیں، سندھ کی بیٹیاں اغوا کی جا رہی ہیں، جبکہ پولیس کے ایس ایچ اوز منشیات فروشوں کی پہرہ داری میں لگے ہوئے ہیں۔
انسان گھر سے نکلتا ہے تو موبائل چھیننے کے دوران لاش بن کر واپس آتا ہے، عوام دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں۔
حکومتی جماعتیں صرف اپنے پیٹ کے لیے کام کر رہی ہیں۔
حکمران 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے پارلیمنٹ پر قبضہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
جبکہ اپوزیشن ملک کے بجائے پی ٹی آئی کے بانی کو بچانے میں مصروف ہے۔
0 تبصرے