پاکستان میں یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کو کچھ حلقوں کی جانب سے ایک معاشی ضرورت اور اصلاحاتی قدم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ ادارہ خسارے میں تھا، اس لیے اسے بند کرنا ناگزیر تھا اور اب اس کی جگہ ڈیجیٹل سبسڈی، کیش ٹرانسفر یا ڈیجیٹل والٹ جیسے جدید طریقے لے لیں گے۔
یہ دلیل سننے میں ضرور جدید لگتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ڈیجیٹل والٹ یوٹیلٹی سٹورز کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
یہ دونوں چیزیں بنیادی طور پر مختلف ہیں۔
ایک اسکرین پر رقم دکھاتا ہے،
دوسرا غریب کے ہاتھ میں آٹا، چینی اور گھی پہنچاتا ہے۔
یوٹیلٹی سٹورز صرف دکانیں نہیں تھے
یوٹیلٹی سٹورز کوئی عام کاروباری ادارہ نہیں تھا جس کا مقصد منافع کمانا ہو۔
یہ پاکستان کا سب سے بڑا ریاستی سوشل سیفٹی نیٹ تھا۔
یہ وہ نظام تھا جہاں:
مزدور
دیہاڑی دار
پنشنر
بیوہ
کم تنخواہ دار سرکاری ملازم
باوقار طریقے سے سستی اور معیاری اشیاء حاصل کرتے تھے۔
ریاست براہِ راست مارکیٹ میں موجود ہو کر ذخیرہ اندوزوں اور مہنگائی مافیا کے مقابلے میں عوام کو تحفظ فراہم کرتی تھی۔
یہی اصل فلاحی ریاست کا تصور ہے۔
خسارہ نہیں، سبسڈی تھی
یوٹیلٹی سٹورز کو “اربوں کا خسارہ” کہہ کر بند کیا گیا۔
لیکن میں پوچھنا چاہتا ہوں:
کیا غریب کو سستا آٹا دینا خسارہ ہے؟
کیا رمضان ریلیف پیکیج خسارہ ہے؟
کیا مہنگائی میں عوام کو سہارا دینا نقصان ہے؟
اگر یہی منطق ہے تو پھر:
سرکاری ہسپتال بھی خسارہ ہیں
سرکاری اسکول بھی خسارہ ہیں
بینظیر انکم سپورٹ بھی خسارہ ہے
حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ریاستی ذمہ داریاں ہیں، کاروبار نہیں۔
یوٹیلٹی سٹورز کا خرچ دراصل عوام پر کی گئی سرمایہ کاری تھی، نہ کہ نقصان۔
اصل مسئلہ ادارہ نہیں، انتظام تھا
اگر بدانتظامی اور کرپشن تھی تو اس کا حل ادارہ بند کرنا نہیں تھا۔
مسائل یہ تھے:
سیاسی مداخلت
غیر پیشہ ور مینجمنٹ
ناقص خریداری نظام
ڈیجیٹلائزیشن کی کمی
سپلائی چین کی خرابی
یہ سب انتظامی ناکامیاں تھیں۔
لیکن سزا کس کو ملی؟
11 ہزار سے زائد ملازمین کو
اور کروڑوں صارفین کو
یہ انصاف نہیں، پالیسی کی ناکامی ہے۔
ڈیجیٹل والٹ کیوں ناکام متبادل ہے؟
ڈیجیٹل سبسڈی کا تصور زمینی حقائق سے متصادم ہے۔
پاکستان میں:
کروڑوں افراد کے پاس اسمارٹ فون نہیں
دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ نہیں
بزرگ افراد ڈیجیٹل نظام استعمال نہیں کر سکتے
نجی مارکیٹ سبسڈی والی قیمت کی پابند نہیں
ڈیجیٹل والٹ صرف رقم دے سکتا ہے،
لیکن قیمتوں کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔
اگر بازار میں آٹا مہنگا ہے تو ڈیجیٹل رقم بھی مہنگائی کا شکار ہو جائے گی۔
جبکہ یوٹیلٹی سٹورز میں:
سرکاری نرخ مقرر ہوتے تھے
ذخیرہ اندوزی ممکن نہیں تھی
سامان کی یقینی دستیابی ہوتی تھی
یہی فرق ریاستی نظام اور مارکیٹ میں ہے۔
بندش کے نقصانات
یوٹیلٹی سٹورز کی بندش کے بعد:
ہزاروں خاندان بے روزگار ہوئے
غریب عوام مہنگی مارکیٹ کے رحم و کرم پر آ گئی
رمضان اور ہنگامی ریلیف کا نظام ختم ہو گیا
ذخیرہ اندوز اور مافیا مضبوط ہو گئے
کیا یہی اصلاح تھی؟
حل بندش نہیں، بحالی ہے
میرا واضح مؤقف ہے کہ یوٹیلٹی سٹورز کو بند نہیں، جدید بنیادوں پر بحال کیا جانا چاہیے۔
یہ ادارہ آج بھی کامیاب ہو سکتا ہے اگر:
1. شفاف اور ای ٹینڈرنگ پر مبنی خریداری ہو
2. سپلائی چین جدید کی جائے
3. اپنے برانڈز (Own Brands) متعارف کروائے جائیں
4. پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اپنائی جائے
5. کرپٹ عناصر کا سخت احتساب ہو
6. سٹورز کو کمرشل اور سبسڈی ماڈل کے امتزاج پر چلایا جائے
یہ سب ممکن ہے — اگر نیت ہو۔
دنیا کے کئی ممالک میں ریاستی ریٹیل نیٹ ورک کامیابی سے چل رہے ہیں۔
پاکستان میں بھی چل سکتے ہیں۔
ریاست کو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے
ریاست کا کام صرف کیش ٹرانسفر نہیں۔
ریاست کا کام ہے:
قیمت کنٹرول کرنا
رسد یقینی بنانا
غریب کو تحفظ دینا
اگر ریاست بازار سے نکل جائے گی تو مافیا قبضہ کر لے گا۔
اور تاریخ گواہ ہے کہ مافیا کبھی عوام کا خیر خواہ نہیں ہوتا۔
آخری بات
یوٹیلٹی سٹورز کا خاتمہ ایک غلط فیصلہ تھا، لیکن اسے درست کیا جا سکتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ:
ڈیجیٹل والٹ سہولت ہو سکتا ہے،
لیکن روٹی، آٹا اور چینی کی ضمانت نہیں۔
عوام کو ایپ نہیں، ریلیف چاہیے۔
اور ریلیف صرف مضبوط ریاستی نظام سے ملتا ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ حکومت یوٹیلٹی سٹورز کی بندش پر نظرثانی کرے اور اس قومی فلاحی ادارے کو جدید اصلاحات کے ساتھ دوبارہ بحال کرے۔
یہ صرف ملازمین کا نہیں، کروڑوں غریب پاکستانیوں کا مطالبہ ہے۔
سید عارف حسین شاہ (مرکزی سیکرٹری جنرل) آل پاکستان ورکرز الائنس یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن آف پاکستان
0 تبصرے