انسانی خصوصیات سے بھرپور اے آئی روبوٹ سے متعلق حیران کن تفصیلات سامنے آ گئیں

انسانی خصوصیات سے بھرپور اے آئی روبوٹ سے متعلق حیران کن تفصیلات سامنے آ گئیں

انسانی خصوصیات سے بھرپور اے آئی روبوٹ سے متعلق حیران کن تفصیلات سامنے آ گئیں قریب آنے والے برسوں میں انسانوں جیسے روبوٹس کی تیاری پر تیزی سے کام کیا جا رہا ہے اور اب چین کی ایک کمپنی تقریباً انسان جیسا روبوٹ تیار کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ اگرچہ ابھی اسے مکمل یا پرفیکٹ قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ’مویا‘ نامی روبوٹ کو دیکھتے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ ایک روبوٹ ہے، تاہم اس سے جڑی کچھ دلچسپ اور حیران کن تفصیلات ایسی ہیں جو یقیناً آپ کی حیرت بڑھا دیں گی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مویا کی جلد حقیقت میں گرم ہوتی ہے۔ روبوٹ تیار کرنے والی کمپنی ’ڈروئیڈ اَپ‘ کے بانی لی چنگ ڈو کا کہنا ہے کہ “جو روبوٹ حقیقی انسان جیسا دکھائی دے، اس کا گرم ہونا بھی ضروری ہے، بالکل ویسے ہی جیسے ہم انسان ہوتے ہیں۔” مویا کے جسم کا درجہ حرارت 32 سے 36 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے۔ کمپنی مویا کو طبی دیکھ بھال، تعلیم اور دیگر مقاصد کے لیے، حتیٰ کہ انسانوں کے دوست یا ساتھی کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔ کمپنی کے مطابق مویا کے چلنے کا انداز 92 فیصد تک انسانوں سے مشابہت رکھتا ہے۔ اپریل 2025 میں مویا کے پروٹو ٹائپ ڈھانچے نے دنیا کی پہلی روبوٹ ہاف میراتھن ریس میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔ اس خاتون روبوٹ کی آنکھوں کے پیچھے کیمرے نصب ہیں، جن کی مدد سے یہ انسانوں سے گفتگو کر سکتی ہے اور انسانی تاثرات بھی ظاہر کر سکتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس روبوٹ کی تیاری میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، اسی وجہ سے مویا کو دنیا کا پہلا بایومی میٹک اے آئی روبوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ مویا کو 2026 کے دوران کسی بھی وقت تقریباً 1 لاکھ 73 ہزار ڈالر میں فروخت کے لیے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔