بحرِ اوقیانوس کے بیچ ایک ویران سا جزیرہ، جسے برسوں سے دنیا “عیاشی کا جزیرہ” اور “پیڈوفائل آئی لینڈ” کے نام سے جانتی رہی۔ ایک نجی طیارہ، جسے طنزیہ طور پر “لولیتا ایکسپریس” کہا جاتا تھا، اور جس میں سوار ہوتے تھے دنیا کے بااثر سیاستدان، ارب پتی سرمایہ دار اور فلمی دنیا کے بڑے نام۔
اسی جزیرے کے بند دروازوں کے پیچھے انسانیت کی بدترین توہین ہوتی رہی۔ غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والی 14 سے 17 برس کی کم عمر لڑکیوں کو ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے لایا جاتا، جہاں طاقت، دولت اور ہوس کے سامنے قانون بے بس نظر آتا۔ یہ سب ایک ایسے شخص کے زیرِ سایہ ہو رہا تھا جس کا نام بعد میں دنیا بھر میں خوف اور نفرت کی علامت بن گیا—جیفری ایپسٹین۔
ایپسٹین کی زندگی کسی سنسنی خیز فلمی کردار سے کم نہ تھی۔ ایک عام اسکول میں ریاضی پڑھانے والا استاد، حیرت انگیز رفتار سے طاقت کے ایوانوں تک جا پہنچا۔ نیویارک کے ایک اوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا یہ شخص بغیر کسی نمایاں تعلیمی ڈگری کے وال اسٹریٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوا، اور پھر عالمی سیاست اور اشرافیہ کا حصہ بنتا چلا گیا—ایک ایسا سفر جو آج بھی سوالیہ نشان ہے۔
اس پراسرار عروج میں اس کی قریبی ساتھی غسلین میکسویل کا کردار فیصلہ کن تھا۔ وہ برطانوی میڈیا ٹائیکون اور مبینہ اسرائیلی خفیہ نیٹ ورک سے جڑے رابرٹ میکسویل کی بیٹی تھی۔ باپ کی موت کے بعد غسلین نے ایپسٹین کو وہ راستے دکھائے جہاں عام انسان کا داخلہ ناممکن سمجھا جاتا ہے، اور یوں جنسی استحصال اور بلیک میلنگ کا ایسا جال بنا جو بین الاقوامی سطح پر پھیل گیا۔
ایپسٹین کے روابط فلمی ستاروں سے لے کر سابق امریکی صدور بل کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ، مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس اور معروف سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ تک جا پہنچے۔ چکاچوند سے بھری اس دنیا کے پیچھے اصل چہرہ کہیں زیادہ خوفناک تھا—ایک ایسا شخص جو اپنی خواہشات پر قابو رکھنے سے قاصر تھا، حتیٰ کہ چند گھنٹوں کی پرواز کے دوران بھی۔
قانون سے بچ نکلنے میں بھی ایپسٹین ماہر ثابت ہوا۔ 2008 میں مضبوط شواہد سامنے آنے کے باوجود، اس نے بااثر وکلا اور طاقتور تعلقات کی مدد سے ممکنہ عمر قید کو صرف 13 ماہ کی معمولی سزا میں بدلوا لیا۔ تاہم 2019 میں دوبارہ گرفتاری کے بعد، مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی وہ جیل میں مردہ پایا گیا۔ سرکاری مؤقف خودکشی کا تھا، مگر عالمی رائے آج بھی یہی ہے کہ اسے خاموش کرایا گیا تاکہ بڑے نام سامنے نہ آ سکیں۔
اس کی موت کے بعد متاثرہ لڑکیوں کی طویل قانونی جدوجہد کے نتیجے میں وہ دستاویزات منظرِ عام پر آئیں، جنہیں آج “ایپسٹین فائلز” کہا جاتا ہے۔ ان فائلوں میں برطانوی شہزادے اینڈریو پر سنگین الزامات سامنے آئے، جبکہ دیگر معروف شخصیات کے نام بھی زیرِ بحث آئے، جن میں سابق عالمی رہنما، بین الاقوامی فنکار، اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اثر و رسوخ کے حامل افراد شامل تھے۔
تحقیقات کے دوران ایک چونکا دینے والا پہلو “Baal” نامی بینک اکاؤنٹ بھی بنا، جس کا حوالہ ایک قدیم دیومالائی دیوتا سے جوڑا گیا۔ اگرچہ اس حوالے سے حتمی ثبوت نہیں مل سکے، مگر ایپسٹین کے جزیرے پر موجود عجیب و غریب تعمیرات اور پیچیدہ مالی لین دین نے شکوک کو مزید تقویت دی کہ یہ سب کسی منظم اور خفیہ نیٹ ورک کا حصہ تھا۔
ماہرینِ قانون کے مطابق فائلز میں شامل ڈیڑھ سو سے زائد نام لازماً مجرم نہیں، مگر یہ دستاویزات واضح کرتی ہیں کہ کس طرح نان ڈسکلوژر ایگریمنٹس (NDAs) اور خطیر رقوم کے ذریعے سچ کو برسوں دبایا جاتا رہا۔
آج کی دنیا یہ حقیقت سمجھ چکی ہے کہ ڈیجیٹل دور میں راز ہمیشہ دفن نہیں رہتے۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ “کون بچ نکلے گا”، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ “کب تک؟”
کیونکہ ایپسٹین فائلز کا منظرِ عام پر آنا، شاید ایک بہت بڑی اور تلخ حقیقت کی صرف ابتدا ہے۔
0 تبصرے