ممبئی (ویب ڈیسک) آسکر ایوارڈ یافتہ بالی ووڈ موسیقار اے آر رحمان نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ آٹھ برسوں سے انہیں بالی ووڈ میں کام نہیں مل رہا۔
اے آر رحمان کے اس دعوے پر فلم انڈسٹری سے وابستہ متعدد شخصیات کا ردِعمل سامنے آیا ہے۔
شاعر اور بالی ووڈ کے لیے ماضی میں گیت لکھنے والے جاوید اختر نے کہا کہ ’’مجھے نہیں لگتا کہ اس میں کوئی فرقہ وارانہ مسئلہ ہے۔‘‘
گلوکار شان نے کہا، ’’مجھے نہیں لگتا کہ موسیقی میں کوئی فرقہ وارانہ یا اقلیتی پہلو ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہمارے تینوں سپر اسٹار، جو تقریباً 30 برسوں سے انڈسٹری پر راج کر رہے ہیں اور بالی ووڈ پر چھائے ہوئے ہیں، کیا اس وجہ سے ان کے مداح کم ہوئے ہیں؟ نہیں، بلکہ ان کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔‘‘
اے آر رحمان کے دعوے پر ناول نگار شوبھا ڈے نے کہا، ’’یہ ایک نہایت خطرناک تبصرہ ہے۔ میں پچاس برسوں سے بالی ووڈ دیکھ رہی ہوں۔ اگر میں نے کوئی ایسی جگہ دیکھی ہے جو فرقہ واریت سے پاک ہے تو وہ بالی ووڈ ہے۔ اگر آپ میں ٹیلنٹ ہے تو آپ کو موقع ضرور ملے گا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اگر آپ میں ٹیلنٹ نہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مذہب کی وجہ سے آپ کو کام نہیں مل رہا یا لوگ آپ کو موقع نہیں دے رہے۔ وہ ایک نہایت کامیاب اور سمجھدار شخصیت ہیں، انہیں ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔ اس کے پیچھے کوئی اور وجہ بھی ہو سکتی ہے، اس پر سوال کیا جانا چاہیے۔‘‘
اس معاملے پر ایک سوال کے جواب میں راگ گائیک اور موسیقار شنکر مہادیون نے کہا، ’’جو شخص گانا کمپوز کرتا ہے اور جو یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اس گانے کو لینا ہے یا نہیں، یا اس کی مارکیٹنگ کرنی ہے یا نہیں—یہ دو مختلف لوگ ہوتے ہیں۔ یہ فیصلے کرنے والے اکثر موسیقی کے شعبے سے تعلق نہیں رکھتے۔‘‘
اے آر رحمان نے کیا کہا؟
متعدد بالی ووڈ فلموں کے لیے یادگار موسیقی دینے والے آسکر ایوارڈ یافتہ موسیقار اے آر رحمان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں اپنے موسیقی کے سفر، بدلتے ہوئے سنیما، مستقبل کے منصوبوں اور سماج کے موجودہ ماحول پر تفصیل سے بات کی۔
فلم انڈسٹری سے متعلق سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’شاید گزشتہ آٹھ برسوں میں طاقت کا توازن بدل گیا ہے اور غیر تخلیقی لوگ فیصلے کر رہے ہیں۔ یہ فرقہ وارانہ رخ بھی اختیار کر سکتا ہے، مگر مجھ سے براہِ راست کسی نے کچھ نہیں کہا۔‘‘
اس کے باوجود انہوں نے تسلیم کیا کہ اس وقت ان کے پاس کوئی کام نہیں ہے۔
اے آر رحمان نے مزید کہا، ’’ہاں، کچھ باتیں میرے کانوں تک پہنچی ہیں، مثلاً آپ کو بُک کر لیا گیا تھا، لیکن پھر کسی دوسری میوزک کمپنی نے فلم کو فنڈ کیا اور وہ اپنے موسیقار لے آئے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’میں نے سوچا ٹھیک ہے، میں آرام کروں گا، اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزاروں گا۔ میں کام کی تلاش میں نہیں ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ کام خود میرے پاس آئے، اور میری محنت اور ایمانداری کی بنیاد پر مجھے مواقع ملیں۔‘‘
ان کا کہنا تھا، ’’میں اس بارے میں زیادہ نہیں سوچتا کیونکہ یہ کوئی ذاتی معاملہ نہیں۔ ہر ایک کی اپنی سوچ اور ترجیحات ہوتی ہیں۔ ہمیں کتنا کام کرنا ہے، یہ ہمارے اختیار میں نہیں۔‘‘
0 تبصرے