ہمارے معاشرے میں خواتین پہلے ہی ظلم، جبر، استحصال اور صنفی امتیاز کا شکار ہیں، لیکن اگر ہم بات کریں چوڑی صنعت میں کام کرنے والی محنت کش خواتین کی تو آنکھوں میں نمی آ جاتی ہے، اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جو چمک اور خوبصورتی سب کو چوڑیوں میں نظر آتی ہے، اس کی اصل قیمت محنت کش خواتین کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ سچ پوچھیں تو ان کی کہانیاں بہت ہی المناک ہیں۔
حیدرآباد کی شیشے کی چوڑیاں پاکستان میں ثقافت، خواتین کی شناخت اور خوشی کی علامت کے طور پر جانی جاتی ہیں، لیکن ان کی چمک کے پیچھے استحصال، شدید صحت کے خطرات، ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک اور نسل در نسل غربت کی تلخ حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ وہ خواتین جو یہ چوڑیاں تیار، صاف اور سینگارتی ہیں، گھر بیٹھ کر گھنٹوں کام کرتی ہیں، لیکن اس کے باوجود لیبر قوانین، سماجی تحفظ اور بنیادی انسانی وقار سے محروم رہتی ہیں، جو ایک بہت بڑا المیہ ہے۔
چوڑی بنانے والی صنعت میں کام کرنے والی زیادہ تر خواتین گھر بیٹھ کر کام کرنے والی مزدور ہیں، جو ٹھیکیداروں کے کنٹرول میں چلنے والے غیر رسمی نظام کا حصہ ہیں۔ تحریری معاہدہ یا قانونی شناخت کے بغیر، انہیں عام طور پر ایک کیپ (300 سے 365 چوڑیاں) کے حساب سے اجرت دی جاتی ہے، جو اکثر چند روپے ہی ہوتی ہے۔ دن میں 12 سے 14 گھنٹے کام کرنے کے باوجود، کئی خواتین کی ماہانہ آمدنی 3 ہزار روپے سے بھی کم ہوتی ہے۔ یہ رقم نہ صرف کسی فرد کے ماہانہ اخراجات کے لیے ناکافی ہے بلکہ پورے خاندان کے لیے بھی کافی نہیں، جبکہ گھر والوں کی صحت اور بچوں کی تعلیم کے مسائل مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔
پورہیت خواتین کو ملنے والی انتہائی کم اجرت میں صحت اور تعلیم کی کوئی فراہمی ممکن نہیں۔ چونکہ ہمارا کام بند دروازوں کے اندر ہوتا ہے، موجودہ مزدور نظام ہمیں "غیر مزدور" سمجھتا ہے۔ یہ غیر مرئی حیثیت استحصال کو بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھنے کا سبب بنتی ہے۔ خاص طور پر جب خواتین بیمار ہو جاتی ہیں—جو زیادہ تر اسی کام کی وجہ سے ہوتا ہے جو ان کے جسم کو نقصان پہنچاتا ہے—تو ٹھیکیدار بغیر کسی وجہ کے اجرت کٹوتی کر دیتے ہیں۔
چوڑی بنانے والی صنعت خواتین کو انتہائی خطرناک پیشہ ورانہ حالات سے دوچار کرتی ہے۔ ہم روزانہ تھنر، کھونر اور کیمیائی رنگوں کے زہریلے دھوئیں سانس کے ذریعے اندر لے لیتی ہیں۔ وقت کے ساتھ کئی خواتین کو دم، سانس کی بیماریاں، ٹی بی، جوڑوں کے درد اور یہاں تک کہ کینسر جیسی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔ بغیر دستانوں کے ٹوٹے شیشے ہاتھ میں اٹھانے سے مسلسل کٹ لگتی ہیں، انفیکشن ہوتا ہے اور مستقل زخم پیدا ہوتے ہیں۔
چوڑی صنعت کا سب سے زیادہ تباہ کن نتیجہ کیمیائی مادوں اور بار بار شیشے کے نقصان سے انگلیوں کے نشانات (فنگر پرنٹس) کا ختم ہو جانا ہے۔ اس سے ہماری قانونی شناخت بدل جاتی ہے۔ کئی خواتین کے لیے قومی شناختی کارڈ (CNIC) حاصل کرنا ناممکن ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ صحت کی سہولیات، سماجی تحفظ کی اسکیمیں، بینکنگ سہولیات اور ووٹ دینے کا حق بھی کھو دیتی ہیں۔ اس طرح ریاست عملاً ہمیں نظرانداز کر دیتی ہے۔
چوڑی بنانے والی صنعت میں کام کرنے والی خواتین کا بڑا حصہ دلت اور دیگر شیڈولڈ کاسٹ برادریوں سے تعلق رکھتا ہے، جنہیں پاکستان میں قانونی طور پر تسلیم کیا گیا ہے لیکن سماجی طور پر کم سمجھا جاتا ہے۔ سندھ کے اصل باشندہ ہونے کے باوجود دلت سماج کو سب سے نیچے رکھا گیا ہے اور ان کے ساتھ نہ صرف مسلمان بلکہ اعلیٰ ذات کے ہندو اور دیگر شیڈولڈ کمیونٹیز بھی امتیازی سلوک کرتے ہیں۔
ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک ہمارے کام کی جگہوں اور آس پاس کے ماحول تک پھیلا ہوا ہے۔ نچلی ذات کی خواتین کو زیادہ تر برابر کا سلوک نہیں ملتا۔ کبھی کبھار انہیں مشترکہ سہولیات استعمال کرنے سے بھی روکا جاتا ہے۔ ہماری محنت کو سستی سمجھا جاتا ہے کیونکہ ہماری زندگیاں صرف استعمال کے قابل سمجھی جاتی ہیں۔ خواتین ہونے کی وجہ سے ہمیں مزید دباؤ اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پدرانہ نظام ہمیں گھر کا کمانے والا تسلیم نہیں کرتا، حالانکہ ہماری کمائی پورے گھر کا سہارا ہے۔ سخت پردے کے رواج ہماری حرکت کو محدود کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ہمیں گھر بیٹھ کر کام کرنا پڑتا ہے اور استحصالی درمیانے افراد پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ غربت ہمارے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں چھوڑتی۔
شناخت اور انصاف کی اپیل:
شیشے کی چوڑی بنانے والی صنعت میں کام کرنے والی خواتین خیراتی کیسز کی محتاج نہیں ہیں۔ ہم مزدور، حقوق کے حامل شہری اور قائد بھی ہیں۔ ہمارا مطالبہ صرف شناخت، تحفظ اور وقار ہے، جو بالکل جائز ہے۔ اگر ہمیں ہمارے جائز حقوق، عزت، وقار اور تحفظ نہ دیا گیا تو یہ غیر انسانی رویہ اور بہت بڑی ناانصافی ہوگی۔
ریاست کو چاہیے کہ گھر بیٹھ کر کام کرنے والی خواتین کو لیبر قوانین کے تحت تسلیم کرے، پیشہ ورانہ صحت اور حفاظت کے معیار یقینی بنائے، سماجی تحفظ، صحت انشورنس اور مناسب اجرت فراہم کرے۔ ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کو پالیسی اور عملدرآمد کے ذریعے ختم کرے، اور چوڑی صنعت میں کام کرنے والی خواتین جن کے فنگر پرنٹس ختم ہو گئے ہیں، ان کی قانونی شناخت بحال کرے۔ ریاست کو فیصلے سازی کے عمل میں دلت خواتین کی آواز شامل کرنی چاہیے۔
پاکستان میں شیڈولڈ کاسٹ برادریوں کو ذات، مذہب اور طبقے کی بنیاد پر جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آئین میں 44 ہندو شیڈولڈ کاسٹ کی شناخت ہونے کے باوجود یہ برادریاں آج بھی چھوت چھات، عوامی جگہوں سے نکالے جانے، قرض غلامی اور جبری مشقت جیسے مسائل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ چوڑی بنانے والی صنعت میں کام کرنے والی کئی دلت خواتین نسل در نسل غربت کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں، جہاں نہ تعلیم تک رسائی ہے اور نہ روزگار کے دیگر مواقع۔
دیکھا جائے تو دلت ثقافتی طور پر بھی الگ شناخت رکھتے ہیں، اور سندھی صوفی روایت، خاص طور پر شاہ عنایت شہید سے گہرا روحانی تعلق رکھتے ہیں، لیکن یہ مقامی شناخت اکثر ریاستی بیانیے کے ساتھ ٹکراتی ہے، جس کی وجہ سے ہماری آواز مزید دبائی جاتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اختیار رکھنے والے چوڑی صنعت میں کام کرنے والی مزدور خواتین کے ساتھ ہونے والے ظلم، جبر اور ناانصافیوں کا نوٹس لیں۔ ہمیں قانون سازی اور ترقیاتی منصوبہ بندی میں شامل کیا جائے۔ واضح ہے کہ اگر معاشرے کے اس مظلوم طبقے کو مزید نظرانداز کیا گیا تو نتائج انتہائی خراب ہوں گے۔
0 تبصرے