ماہ نور شاہ بلوچستان کی بیٹی، کیچ تربت کی فخر

ماہ نور شاہ  بلوچستان کی بیٹی، کیچ تربت کی فخر

ماہ نور شاہ محض ایک نام نہیں بلکہ ایک فکر، ایک مشن اور ایک روشن مثال کا نام ہے۔ وہ بلوچستان کی اس باہمت بیٹی کا درخشاں استعارہ ہیں جنہوں نے اپنی محنت، لگن اور خلوص کے ذریعے نہ صرف کیچ تربت بلکہ پورے بلوچستان کا نام فخر سے بلند کیا۔ آج ماہ نور شاہ ایک مقبول خاتون صحافی، متحرک سماجی کارکن اور انسان دوست شخصیت کے طور پر جانی اور پہچانی جاتی ہیں۔ ماہ نور شاہ کا تعلق کیچ تربت سے ہے، جہاں محدود وسائل اور بے شمار سماجی چیلنجز کے باوجود انہوں نے علم و آگہی کو اپنا ہتھیار بنایا۔ تعلیم کے میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے بعد انہوں نے صحافت کو بطور ذریعہ اختیار کیا تاکہ معاشرے کے ان مسائل کو اجاگر کیا جا سکے جو اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں سماجی ناانصافی، خواتین کے حقوق، تعلیم، صحت، ماحولیاتی مسائل اور انسانی حقوق جیسے اہم موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ماہ نور شاہ کو ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان اور یوتھ ایسوسی ایشن آف پاکستان کی جانب سے دو بڑے اعزازات سے نوازا گیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ان کی جدوجہد صرف مقامی سطح تک محدود نہیں بلکہ قومی و بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کی جا رہی ہے۔ یہ اعزازات ان کے لیے نہیں بلکہ بلوچستان کی ہر اس بیٹی کے لیے فخر کا باعث ہیں جو آگے بڑھنے کا خواب دیکھتی ہے۔ ماہ نور شاہ نے نہ صرف اپنے والدین اور خاندان کا سر فخر سے بلند کیا ہے بلکہ پورے بلوچستان کے لیے ایک مثال قائم کی ہے۔ وہ ہر میدان میں پیش پیش نظر آتی ہیں چاہے وہ تعلیم کا شعبہ ہو، خدمتِ خلق ہو یا سماجی فلاح و بہبود کے منصوبے۔ ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی سنجیدگی، خلوص اور عاجزی ہے۔ وہ شہرت کے باوجود ایک سادہ مزاج، باوقار اور نرم گفتار انسان ہیں جو انسانیت کو سب سے بڑی عبادت سمجھتی ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ماہ نور شاہ ایک کثیر صلاحیتوں کی حامل (Multi-talented) خاتون ہیں، جنہوں نے قلم کو آواز، آواز کو طاقت اور طاقت کو خدمت میں بدل دیا۔ وہ مظلوم کی آواز، کمزور کا سہارا اور نوجوان نسل کے لیے ایک روشن چراغ ہیں۔ ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور مقصد انسانیت کی بھلائی ہو تو راستے خود بنتے چلے جاتے ہیں۔ ماہ نور شاہ واقعی بلوچستان کی وہ بیٹی ہیں جو امید، حوصلے اور روشن مستقبل کی علامت بن چکی ہیں۔ دعا ہے کہ وہ اسی جذبے، عزم اور اخلاص کے ساتھ آگے بڑھتی رہیں اور ان کی کامیابیاں آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنتی رہیں۔