انور پیرزادہ کی محفل علم، مشاہدے اور اپنائیت کا حسین امتزاج ہوتی تھی: مقرر
کراچی (اسڻاف رپورڻر) عوامی پریس کلب ملیر کی جانب سے عظیم سندھی مفکر انور پیرزادہ کو شاندار خراجِ عقیدت ملیر میں عوامی پریس کلب ملیر مراد ميمن گوڻھ کے زیرِ اہتمام سندھ کے نامور ادیب، شاعر، صحافی، محقق اور عظیم مفکر محمد انور پیرزادہ کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عوامی پریس کلب ملیر کے جنرل سیکریٹری منظور سولنگی نے کہا کہ تخلیق کار کبھی نہیں مرتے، کیونکہ ان کے افکار، الفاظ اور فنی خدمات انہیں صدیوں تک زندہ رکھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’’لٹل ماسکو‘‘ کے نام سے مشہور ضلع لارکانه کے تعلقہ دوکری کے گاؤں حاجی لعل بخش شیخ (بلہڑیجی) میں 25 جنوری 1945ء کو پیدا ہونے والے محمد انور ولد شفیع محمد پیرزادہ اپنی فکر، تخلیقات اور جدوجہد کے باعث آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سے حاصل کی، 1962ء میں میٹرک، 1967ء میں بی اے اور 1969ء میں انگریزی ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔تقریب میں مقررین نے کہا کہ انور پیرزادہ نے اپنی پوری زندگی سندھ کی تاریخ، آثارِ قدیمہ، جغرافیہ، زبان، صحافت اور بالخصوص حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے فکر و پیغام کو عام کرنے کے لیے وقف کر دی۔ انہوں نے بھٹائی کے کلام کو جدید فکری بنیادوں پر ازسرِنو متعارف کرایا اور شاہ جو رسالہ کے ابیات کی درست قرأت، ان میں بیان کردہ حالات، واقعات اور مقامات پر تحقیق کو اپنی زندگی کا مشن بنایا۔
تقریب کے صدر عبدالقادر درس نے کہا کہ انور پیرزادہ کی محفل علم، مشاہدے اور اپنائیت کا حسین امتزاج ہوتی تھی، جہاں سے نئی حقیقتیں اور فکری جہتیں سامنے آتی تھیں۔ انہوں نے تھر، کاچھو، وسطی سندھ، کیرتھر کے پہاڑوں سے لے کر دریائے سندھ کے ڈیلٹا تک سندھ کے ہر خطے کا گہرائی سے مشاہدہ کیا۔ وہ محض شاعر اور صحافی ہی نہیں بلکہ ایک متحرک ماہرِ آثارِ قدیمہ بھی تھے، جنہوں نے تھانہ احمد خان سے فوسلز جمع کیے اور دریائے سندھ کے قدیم بہاؤ پر تحقیقی کام کیا۔سرپرستِ اعلیٰ قاضی لطیف بلوچ نے کہا کہ کیرتھر، ہالار اور کارونجھر کے معدنی ذخائر سے متعلق انور پیرزادہ کی تجاویز آج بھی نہایت اہمیت کی حامل ہیں، جن پر عمل درآمد سے سندھ اور ملک کو بڑا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔محمد انور پیرزادہ کی تصانیف میں ’’متان وساریو‘‘، ’’اے چاند بھٹائی کو کہنا‘‘، ’’سندھ‘‘، ’’بھٹائی‘‘، ’’بمبئی یاترا‘‘ اور ’’انٹرویوز اور تقاریر‘‘ شامل ہیں۔ وہ نوجوانوں کو تحقیق کی جانب راغب کرنے والے استاد صفت انسان تھے۔ سندھ اور سندھی عوام سے ان کی محبت بے مثال تھی۔ وہ کہا کرتے تھے:
’’اگر میرے بس میں ہوتا تو میں پوری دنیا کو سندھ بنا دیتا۔ آخر میں مقررین نے کہا کہ انور پیرزادہ ایک ہمہ جہت، غیر روایتی اور روشن خیال شخصیت تھے، جن کی ادبی، صحافتی اور تحقیقی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے علم و آگہی کا قیمتی سرمایہ رہیں گی۔
0 تبصرے