خضدار: وسائل سے محروم، سہولتوں سے خالی ایک بڑا شہر

تحرير: ڈاکٹر اقصیٰ شاہوانی

خضدار: وسائل سے محروم، سہولتوں سے خالی ایک بڑا شہر

خضدار بلوچستان کا دوسرا بڑا شہر ہونے کے باوجود آج بنیادی انسانی سہولتوں سے محروم نظر آتا ہے۔ یہ وہ شہر ہے جو جغرافیائی، تعلیمی اور تجارتی لحاظ سے ہمیشہ اہم رہا، مگر بدقسمتی سے حکومتی عدم توجہی نے اسے مسائل کا گڑھ بنا دیا ہے۔ خضدار میں بجلی کی لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے۔ گھنٹوں، بلکہ کئی کئی دن بجلی غائب رہتی ہے جس سے کاروبار، تعلیم اور گھریلو زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ گیس کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے، لوگ مہنگے سلنڈروں پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں، جو غریب عوام کی پہنچ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں شہر کی سڑکوں کی حالت انتہائی خراب ہے۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، جگہ جگہ گڑھے اور ناقص نکاسیٔ آب نے آمدورفت کو مشکل بنا دیا ہے۔ بارش کے دنوں میں یہی سڑکیں شہریوں کے لیے عذاب بن جاتی ہیں۔ حادثات روز کا معمول ہیں مگر ذمہ دار ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ صحت کے شعبے کی حالت اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ خضدار جیسے بڑے شہر میں نہ کوئی معیاری ہسپتال موجود ہے، نہ ماہر ڈاکٹرز کی دستیابی یقینی ہے۔ ٹراما سینٹر کا نہ ہونا سب سے بڑا المیہ ہے۔ کسی بھی حادثے یا ایمرجنسی کی صورت میں مریضوں کو کوئٹہ منتقل کیا جاتا ہے، اور اکثر قیمتی جانیں راستے ہی میں دم توڑ دیتی ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر کب تک خضدار کے عوام علاج کے لیے دوسرے شہروں کے محتاج رہیں گے؟ امن و امان کی صورتحال بھی شہریوں کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں جگہ جگہ ایف سی چیک پوسٹس قائم ہیں۔ اگرچہ سیکیورٹی کا مقصد امن قائم کرنا ہوتا ہے، لیکن مسلسل چیکنگ اور غیر یقینی حالات نے عوام میں خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔ آج خضدار میں شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں بے چینی اور خوف نہ ہو۔ لوگ اپنے بچوں، بہنوں اور بیٹیوں کے مستقبل کے حوالے سے سخت پریشان ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ خضدار کو صرف نقشے میں تو بڑا شہر مانا گیا ہے، مگر سہولتوں، ترقی اور عوامی حقوق کے لحاظ سے اسے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ حکومتِ بلوچستان اور متعلقہ اداروں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خضدار کے عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کریں، بجلی، گیس، صحت، سڑکوں اور امن و امان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔ اگر خضدار جیسے اہم شہر کو مسلسل محرومیوں میں دھکیلا جاتا رہا تو عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مزید کمزور ہوگا۔ اب وقت آ چکا ہے کہ وعدوں کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں، تاکہ خضدار کے لوگ بھی باعزت، محفوظ اور بہتر زندگی گزار سکیں۔