ایران میں حالات بہتر ہونے لگے، امریکی حملے کا خطرہ برقرار، خطے میں ہائی الرٹ

ایران میں حالات بہتر ہونے لگے، امریکی حملے کا خطرہ برقرار، خطے میں ہائی الرٹ

تهران/نیو یارک/اسلام آباد (عوامی آواز رپورٹ) — وسطی ایشیا ایک بار پھر کشیدگی کا شکار ہے، جہاں ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے حوالے سے خطرے کی صورتحال برقرار ہے۔ عالمی اداروں نے مغربی فوجی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تمام شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایران پر جلد حملہ ہو سکتا ہے۔ غیر متوقع اقدامات امریکی عسکری حکمت عملی کا اہم حصہ ہوتے ہیں، اس لیے جان بوجھ کر صورتحال غیر واضح رکھی گئی ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی سفارتی سطح پر بھی غیر معمولی سرگرمیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ برطانیہ نے ایران سے اپنا سفارتی عملہ واپس بلا لیا ہے جبکہ برطانوی سفیر کو بھی تہران سے واپس طلب کیا گیا ہے۔ اس معاملے کو ممکنہ فوجی کارروائی سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس، ایران میں احتجاج اور بدامنی کے بعد ملک کے مختلف حصوں، خصوصاً دارالحکومت تہران میں صورتحال کنٹرول میں نظر آ رہی ہے۔ سیکیورٹی ادارے الرٹ ہیں اور امن و امان کی بحالی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران میں امن قائم ہے اور صورتحال مکمل ضابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون جیسی غلطی دوبارہ نہ دہرائی جائے، ورنہ وہی نتیجہ نکلے گا جو پہلے نکلا۔ عزم کو بمباری سے توڑا نہیں جا سکتا۔ دوسری طرف، سعودی وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور علاقائی صورتحال پر بات کی۔ ایران نے عارضی طور پر بند کی گئی اپنی فضائی حدود دوبارہ کھول دی ہیں۔ اسی دوران، جرمن ایئر لائنز نے اسرائیل کے لیے رات کی پروازیں بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو 19 جنوری تک بند رہیں گی۔ امریکہ نے پہلے ہی اپنے کمرشل طیاروں کو ایرانی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر زوردار اور فیصلہ کن حملہ چاہتے ہیں، تاہم وہ طویل جنگ کے بجائے مختصر کارروائی چاہتے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی آرمی چیف نے فوری دفاعی تیاریوں کا حکم دیا ہے، شمالی اسرائیل سمیت مختلف علاقوں میں بم شیلٹر کھولنا شروع ہو گئے ہیں۔ اسرائیل کو امید ہے کہ امریکہ ایران پر حملے سے پہلے وارننگ دے گا۔ قبل ازیں امریکی صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں کہا تھا کہ ایران میں بڑے پیمانے پر پھانسی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، اور اہم ذرائع سے معلومات ملی ہیں کہ خطرات رُک گئے ہیں۔ امریکی انتظامیہ نے قطر میں امریکی فوجی اڈے سے کچھ اہلکاروں کو نکالنے کا حکم دیا ہے، جبکہ برطانیہ نے بھی قطر کے امریکی فوجی اڈے سے اپنا عملہ واپس بلا لیا ہے۔