لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ہراسان کرنا بند کیا جائے: سندھیاڻي تحریک

لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ہراسان کرنا بند کیا جائے: سندھیاڻي تحریک

حیدرآباد (پ ر) ڈی سی دادو اور ڈی ایچ او دادو کی جانب سے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ہراسان کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سندھیاڻي تحریک کے مرکزی صدر عمیرہ سموں، مرکزی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر ماروی سندھو، مرکزی رہنما سبھانی داهری، بختاور ملاح اور صائمہ منگھار نے اپنے مشترکہ پریس بیان میں کہا ہے کہ لیڈی ہیلتھ ورکر انتہائی مشکل حالات میں گھر گھر جا کر صحت کے فرائض انجام دیتی ہیں اور ان کا کام نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان میں قابلِ ستائش ہے۔ چند دن قبل دادو میں پولیو مہم کے دوران ایک اجلاس میں پولیو ورکرز نے پولیو کے قطرے پلانے کے دوران پیش آنے والے مسائل کی نشاندہی کی اور سیکورٹی کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ لیکن ورکرز کے جائز مطالبات کی بجائے جاگیر داروں کے زیرِ اثر کامورا شاہی کے نمائندوں نے پولیو ورکرز کو ہراسان کیا اور ڈیوٹی سے ہٹا دیا، جو پولیو ورکرز کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ سندھ سرکار کی نااہلی کی وجہ سے پچھلے سال جیکب آباد میں ایک پولیو ورکر کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آیا، جبکہ سندھ میں پولیو ورکرز کے اغوا اور قتل کے کیسز بھی رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود پولیو ورکرز کو سیکورٹی فراہم نہ کرنا سندھ حکومت کی عورت دشمنی کی انتہا ہے۔ معصوم بچوں کو پولیو جیسی وبائی بیماری سے بچانے کے لیے گھر گھر جا کر قطرے پلانے والی عورتیں میدان میں بھی ہراسانی کا شکار ہیں، اور ایسی صورتحال میں سیکورٹی کا مطالبہ کرنے والے پولیو ورکرز کو ڈی سی دادو کی جانب سے ہراسان کرنا پولیو مہم کو ناکام بنانے کی سازش ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں پولیو ختم ہو چکا ہے، لیکن پاکستان کے حکمران فنڈنگ ہڑپ کرنے کے لیے پولیو مہم کو ناکام بنا رہے ہیں۔ یہ اقدام جاگیر دار نواز پی پی کی سندھ سرکار کی کھلی پشت پناہی کی وجہ سے ہوا ہے، جو عورتوں کو تحفظ دینے کے بجائے معاشی اور سماجی ہراسانی کر رہی ہے۔ سندھ کی خواتین کسی بھی جگہ محفوظ نہیں ہیں، اور پی پی حکومت نے عدالتوں کو بھی قید کر کے سندھ کو صدیوں پیچھے دھکیل دیا ہے اور جاگیر دار شاہی کو آزاد چھوڑ دیا ہے۔