کراچی:پاکستان بزنس گروپ کے بانی اور سابق چیئرمین کاٹی فراز الرحمٰن نے کہا ہے کہ کسٹمز کا فیس لیس سسٹم جو شفافیت، سہولت اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، آج خود شدید خطرے سے دوچار ہے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ فیس لیس افسران اس جدید اور نایاب نظام کو اپنی من مانی، تاخیر اور غیر ضروری اعتراضات کے ذریعے ناکام بنانے پر تُلے ہوئے ہیں، جس سے درآمدات و برآمدات بری طرح متاثر ہو رہی ہیں فراز الرحمٰن کا کہنا تھا کہ فیس لیس سسٹم کا بنیادی مقصد انسانی مداخلت کم کرنا، شفاف فیصلہ سازی اور کاروباری لاگت میں کمی تھا، مگر عملی طور پر یہ نظام بعض افسران کے لیے بے لگام اختیارات کا ذریعہ بن چکا ہےانہوں نے نشاندہی کی کہ
“جب فائلوں پر کوئی نام، کوئی ذمہ داری اور کوئی جواب دہی نہ ہو تو فیصلے قانون کے بجائے ذاتی سوچ پر ہونے لگتے ہیں، جو پورے سسٹم کے لیے زہرِ قاتل ہے۔”فراز الرحمٰن نے کہا کہ کاروباری برادری پہلے ہی مہنگائی، بلند شرح سود اور توانائی بحران کا سامنا کر رہی ہے، ایسے میں کسٹمز کلیئرنس میں بلاجواز رکاوٹیں کاروبار دشمن عمل کے مترادف ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ:فیس لیس افسران کے لیے واضح SOPs بنائی جائیں
ہر فیصلے کے ساتھ جواب دہی اور ٹریکنگ سسٹم لازمی ہو
تاخیر اور اختیارات کے غلط استعمال پر سخت کارروائی کی جائےفراز الرحمٰن نے واضح کیا کہ اگر فیس لیس سسٹم کو اصلاح کے بجائے طاقت کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا تو اس کا نقصان صرف تاجروں کو نہیں بلکہ ریاستی ریونیو اور ملکی معیشت کو ہوگا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ
“پاکستان کو ایسے نظام چاہییں جو کاروبار کو سہولت دیں، خوف نہیں۔ فیس لیس سسٹم کو بچانا ہے تو من مانی کو ختم کرنا ہوگا۔”
0 تبصرے