پختونخوا میں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جا رہا ہے: پاک فوج کے ترجمان

پختونخوا میں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جا رہا ہے: پاک فوج کے ترجمان

راولپنڈی (ویب ڈیسک) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں پیش آئے، جس کی وجہ یہ ہے کہ کے پی میں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ گزشتہ سال پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے 10 بڑے واقعات میں افغان شہری ملوث تھے۔ منگل کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے گزشتہ سال کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال پاکستانی فوج نے دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشنز کیے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر 75 ہزار آپریشنز کیے گئے اور دہشت گردی کے 5400 واقعات پیش آئے، جن میں 1235 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور عام شہری شہید ہوئے، جبکہ 2597 دہشت گرد مارے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ “فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے اور تمام دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں موجود ہیں، جہاں ان کی پرورش کی جا رہی ہے۔” لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جعفر ایکسپریس، ایف سی ہیڈکوارٹرز بنوں، کیڈٹ کالج وانا سمیت دیگر دہشت گرد حملوں کے حوالے سے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے 10 بڑے واقعات میں افغان شہری ملوث تھے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ افغانستان پوری دنیا کے دہشت گردوں کے لیے پناہ گاہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “وہاں دنیا بھر کے دہشت گردوں کے لیے پناہ گاہیں موجود ہیں، القاعدہ اور داعش کے دہشت گرد وہاں ہیں، بی ایل اے بھی وہاں موجود ہے، جبکہ شام سے بھی ڈھائی ہزار دہشت گرد افغانستان پہنچے ہیں جو وہاں لڑ رہے تھے۔” لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ گزشتہ سال دہشت گردی سے متعلق واقعات کا جامع جائزہ لیا جائے گا، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں، دہشت گردوں کا پاکستان، اسلام اور بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں، دنیا نے پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے اور یہ بالکل واضح ہے کہ یہ جنگ ہمیں طاقت کے ذریعے جیتنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ضروری ہے، خارجیوں کے بارے میں اللہ کا حکم ہے کہ جہاں بھی ملیں انہیں قتل کر دو۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں 7.2 ارب ڈالر کا جدید ترین اسلحہ چھوڑ گیا، افغان طالبان اپنی تنظیمی طرز پر ٹی ٹی پی کو تیار کر رہے ہیں، افغان طالبان وار اکانومی چلانے کے لیے دہشت گردی کو اسپانسر کر رہے ہیں، پاکستان میں دہشت گردی بھارت کی سرپرستی میں ہو رہی ہے، طالبان وہاں اپنی عملداری قائم کر رہے ہیں اور یہاں ان کی سیٹلمنٹ شروع ہو جاتی ہے۔