کراچی (رپورٹر) – بانی ہزاری کلچر ڈی اور چیئرپرسن ہزاری موومنٹ پاکستان، لیلیٰ سواتی، نے پاکستان اور بیرون ملک مقیم ہزاری وال قوم کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ جو ہزاری وال قوم کا شناختی سفر کالج لائف سے شروع ہوا تھا، آج میرا یہ مقصد پورا ہو گیا ہے اور ہزاری وال کو اپنی الگ شناخت مل چکی ہے۔ کئی ہزاری کے قابل بیٹے اور بیٹیاں اپنی شناخت منوا چکے ہیں اور قوم کی نئی نسل فخر کے ساتھ خود کو ہزاری وال کہتی ہے۔
لیلیٰ سواتی نے کہا کہ ہزاری کو قدرت نے خوبصورت مناظر کے ساتھ بے پناہ قدرتی وسائل سے بھی مالا مال کیا ہے، جس سے پورا پاکستان مستفید ہوتا ہے۔ ہر میدان میں ہزاری وال آگے آگے ہیں۔ اگر حکومت ہزاری پر توجہ دے تو یہ علاقہ بین الاقوامی معیار کا سیاحتی مقام بھی بن سکتا ہے۔
اس موقع پر صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سے ہزاری وال قوم کی طرف سے درخواست کی گئی ہے کہ ہمارے لوگوں کو ان کے حقوق دیے جائیں اور ہمارے وسائل کے بدلے ہزاری کے لوگوں کو معیاری زندگی، روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں، جن سے ہزاری کے لوگ آج تک محروم ہیں۔ تریبیلا ڈیم کی رائلٹی کے حقدار بھی صرف ہزاری عوام ہیں، معدنیات اور قیمتی لکڑی کی مد میں بھی ہزاری کا کوئی حصہ نہیں دیا گیا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہزاری کے لوگوں کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ میں آرمی چیف عاصم منیر سے اپیل کرتی ہوں کہ ہزاری وال قوم پر ہونے والے ظلم و زیادتی کو اب بند کیا جائے، ورنہ ہزاری وال جاگ چکے ہیں۔
0 تبصرے