”حکومت چھوڑ دو یا وینزویلا کے صدر جیسا انجام بھگتنے کے لیے تیار رہو“، کیا امریکہ ایران پر حملے کے لیے تیار؟

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ان سے وابستہ اعلیٰ قیادت تک ایک حتمی وارننگ پہنچائیں

”حکومت چھوڑ دو یا وینزویلا کے صدر جیسا انجام بھگتنے کے لیے تیار رہو“، کیا امریکہ ایران پر حملے کے لیے تیار؟

بیرونِ ملک مقیم ایرانی صحافیوں سمیت دیگر ذرائع سے گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق امریکہ کسی بھی وقت ایران میں رجیم چینج آپریشن شروع کر سکتا ہے۔ مختلف ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے خلیجی تعاون کونسل کے اہم ممالک، جن میں قطر اور عمان کے ساتھ ساتھ ترکی بھی شامل ہے، کو سفارتی چینلز کے ذریعے ایک ہنگامی اور غیر معمولی پیغام ارسال کیا ہے۔ اس پیغام میں ان ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ان سے وابستہ اعلیٰ قیادت تک ایک حتمی وارننگ پہنچائیں، یعنی موجودہ حکمران ہتھیار ڈال دیں یا محفوظ راستے کے ذریعے اقتدار چھوڑنے کا آپشن قبول کریں، بصورتِ دیگر وینزویلا کے صدر نکولس مادورو جیسے انجام کے لیے تیار رہیں۔ یہ پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں احتجاجی مظاہرے ملک کے 40 شہروں تک پھیل چکے ہیں، مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور واشنگٹن واضح الفاظ میں اس مؤقف کو دہرا رہا ہے کہ وہ ایرانی عوام کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے، جیسا کہ صدر ٹرمپ نے دو دن قبل اپنے تازہ بیان میں کہا تھا۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ نہ صرف خفیہ معلومات کو ڈی کلاسیفائی کرنے پر غور کر رہا ہے بلکہ ایرانی بسیج، پاسدارانِ انقلاب اور ان کی حمایت یافتہ گروہوں کے رہنماؤں کے خلاف انعام مقرر کرنے کے آپشن پر بھی کام ہو رہا ہے، جن پر مظاہرین کو دبانے میں کردار ادا کرنے کے الزامات ہیں۔ اس حوالے سے برطانوی میڈیا نے انٹیلیجنس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ ایران میں بدترین احتجاجی صورتحال کے بعد آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خاندان سمیت روس کے دارالحکومت ماسکو منتقل ہونے کی منصوبہ بندی کر لی ہے اور اس ضمن میں ’’پلان بی‘‘ بھی تیار کر لیا گیا ہے۔ دوسری جانب ایران کے اندر یہ خدشات زور پکڑ رہے ہیں کہ فوج اور سیکیورٹی فورسز کے کچھ حلقے آیت اللہ خامنہ ای اور موجودہ نظام سے وفاداری ختم کر کے بغاوت کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ اگرچہ ان تمام دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال، امریکی جارحانہ بیانات اور ایران کی اندرونی حالت مجموعی طور پر مشرقِ وسطیٰ کو ایک ایسے خطرناک موڑ پر لا کھڑا کر رہی ہے جہاں کسی بھی غلط اندازے کے نتائج پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔