ایکوپریشر اور یوگا قدیم مشرقی طریقہ علاج ہیں جو انسان کے جسم، ذہن اور روح کے باہمی تعلق پر یقین رکھتے ہیں: حکیم مختار احمد برکاتی

معاشرے میں بڑھتی ہوئی بیماریوں کے پیش نظر ضروری ہے کہ علاج کے بجائے نظامِ صحت اور احتیاطی تدابیر کو ترجیح دی جائے: ڈاکٹر سائرہ بانو

ایکوپریشر اور یوگا قدیم مشرقی طریقہ علاج ہیں جو انسان کے جسم، ذہن اور روح کے باہمی تعلق پر یقین رکھتے ہیں: حکیم مختار احمد برکاتی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان پریونٹیو اینڈ ہولسٹک سوسائٹی (PPHS) کے زیرِ اہتمام اکوپریشر اینڈ یوگا ویلنس ورکشاپ کراچی میں دی لکی ون مال میں منعقد کی گئی جس کا مقصد یونانی اور آیورویدک سسٹم آف میڈیسن کی روشنی میں بیماری سے پہلے صحت، ذہنی سکون اور خود شفا یابی کے تصور کو فروغ دینا تھاورکشاپ کے موقع پر حکیم مختار احمد برکاتی،ماسٹر یوگی وجاہت،ڈاکٹر دانجی تھاور فوفل اورمعروف ریسرچر ڈاکٹر حلیمہ نذر نے اپنے تجربے سے شرکاءکو آگاہ کیا جبکہ اس موقع پر حجامہ تھراپسٹ،ہومیوپیتھک فزیشن،ایستھیٹکس اسپیشلسٹ اور صدر، پی پی ایچ ایس ویمن وِنگ پاکستان ڈاکٹر سائرہ بانو،ترجمان و جوائنٹ سیکریٹری حکیم شاکر نگدہ ،سوسائٹی کے فاونڈر ممبر حکیم محمد عثمان،مانجو یوگا والے یوگا ایکسپرٹ، ڈاکٹر حسین علی شائق (آرتھوپیڈک سرجن) تہران، ایران، چیئرمین سی پی سی شکیل احمد بیگ اورڈپٹی ڈائریکٹر سی آر پی سی سلیم جہانگیر نے بھی شرکت کی اس موقع پر حکیم مختار احمد برکاتی نے کہاکہ ایکوپریشر اور یوگا قدیم مشرقی طریقہ علاج ہیں جو انسان کے جسم، ذہن اور روح کے باہمی تعلق پر یقین رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ ایکوپریشر میں جسم کے مخصوص پوائنٹس پر دباو ڈال کر توانائی کے بہاو کو متوازن کیا جاتا ہے، جس سے درد میں کمی، اعصابی تناو کا خاتمہ اور جسمانی افعال میں بہتری آتی ہے اس موقع پر صدر پاکستان پریونٹیو اینڈ ہولسٹک سوسائٹی ڈاکٹر سائرہ بانو نے کہا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بیماریوں کے پیش نظر ضروری ہے کہ علاج کے بجائے نظامِ صحت اور احتیاطی تدابیر کو ترجیح دی جائے ترجمان و جوائنٹ سیکرٹری حکیم شاکر نگدہ نے کہا کہ پاکستان پریونٹیو اینڈ ہولسٹک سوسائٹی یونانی اور آیورویدک نظامِ طب کے اصولوں کے تحت عوام میں صحت آگاہی، تربیت اور عملی رہنمائی کے لیے ایسے پروگرامز کا سلسلہ جاری رکھے گی ورکشاپ کے موقع پرماسٹر یوگی وجاہت نے کہا کہ یوگا مختلف آسنوں، سانس کی مشقوں اور مراقبے کے ذریعے جسم کو قدرتی توازن کی طرف لے جاتا ہے، جو شفا یابی کے عمل کو تیز کرتا ہے جبکہ خود شفا یابی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ انسانی جسم میں بیماریوں سے لڑنے اور خود کو درست کرنے کی فطری صلاحیت موجود ہوتی ہے اس موقع پر ڈاکٹر دانجی تھاور فوفل نے کہا کہ ایکوپریشر کے ذریعے جب توانائی کے راستوں میں موجود رکاوٹیں دور کی جاتی ہیں تو خون کی گردش بہتر ہوتی ہے اور جسم کے اعضا صحیح انداز میں کام کرنے لگتے ہیں انہوں نے کہا کہ اس عمل سے سر درد، جوڑوں کے درد، معدے کے مسائل اور ذہنی دباو جیسے عوارض میں نمایاں کمی دیکھی جا سکتی ہے جبکہ یوگا نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی سکون کے لیے بھی بے حد موثر ہے باقاعدہ یوگا کرنے سے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں، لچک میں اضافہ ہوتا ہے اور سانس کا نظام بہتر ہوتا ہے اس موقع پرمعروف ریسرچر ڈاکٹر حلیمہ نذرنے کہا کہ مراقبہ اور پرانایام ذہن کو منفی خیالات سے پاک کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ڈپریشن، بے چینی اور بے خوابی جیسے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے، جو خود شفا یابی کے عمل کا اہم حصہ ہے اور ایکوپریشر اور یوگا کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنا کر انسان اپنی صحت کی ذمہ داری خود سنبھال سکتا ہے یہ طریقے نہ صرف بیماریوں سے بچاو میں مدد دیتے ہیں بلکہ مجموعی طور پر معیارِ زندگی کو بہتر بناتے ہیں انہوں نے کہا کہ مستقل مزاجی، درست رہنمائی اور مثبت سوچ کے ساتھ ان طریقوں پر عمل کیا جائے تو خود شفا یابی ایک حقیقت بن سکتی ہے، جو انسان کو جسمانی اور روحانی دونوں سطحوں پر مضبوط بناتی ہے اس موقع پر سوسائٹی کے فاونڈر ممبر حکیم محمد عثمان نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے روڈ میپ کے مطابق طب یونانی کے اصولِ حفظانِ صحت اور اسبابِ ستہ ضروریہ کو ایک موثر رول ماڈل کے طور پر اپنانے پر زور دیا اور ان اصولوں کو تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کی سفارش کی انہوں نے کہا کہ ان اصولوں پر عمل سے بیماریوں کی روک تھام اور صحت مند معاشرے کی تشکیل ممکن ہے.