وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کوششوں سے غیرملکی سرمایہ کار پاکستان آ رہے ہیں، چیئرمین ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن
کراچی؛ چیئرمین ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان ملک محمدبوستان نے سال 2025کو سال2024کے مقابلے میں قدرے بہتر اورمستحکم قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مضبوط رہا اور پاکستانی روپے میں اللہ تعالی نے بہت برکت دی ہے جبکہ آئی ایم ایف کے گزشتہ معاہدوں کے بعد سے ڈالر کی اونچی اڑان کم رہی ہے ،زرمبادلہ کے ذخائر بڑھے ہیں جبکہ اوورسیز پاکستانیز کی جانب سے ترسیلات کی آمد بھی بہتر رہی ہے لیکن خلیجی ممالک میں پاکستانیوں کو ویزے نہ ملنے کی مشکلات کی وجہ سے ترسیلات زرمیں جو اضافہ ہونا تھا وہ توقعات کے مطابق نہیں رہا،سال2026کیلئے بہت سے مثبت امیدیں ہیں،وزیراعظم میاں شہبازشریف اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی کوششوں کی بدولت غیرملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری پر غور کررہے ہیں۔ ملک محمدبوستان نے سال 2026 کوبزنس کمیونٹی کیلئے امیدوں کا سال قرار دیا اور کہا کہ ملک میں اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں جبکہ کچھ عرصہ پہلے تک یہ افواہیں اڑائی جاتی تھیں کہ پاکستان دیوالیہ ہوجائے گا مگر ایس آئی ایف سی کی جدوجہد اور حکومت کے دنیا بھر سے روابط میں بہتری سے نہ صرف ملکی خزانے پر دباﺅ کم ہوا ہے بلکہ سرمایہ کار پاکستان کا رخ کررہے ہیں اور یہ کامیابی بھارت کے خلاف جنگ میںپاکستان افواج کی عظیم الشان فتح کے بعد ہمارے ملک کو ملی ہے اور دنیا بھر میں پاکستان کی ریٹنگ بہتر ہوئی ہے۔ ملک محمدبوستان نے کہا کہ سال 2025کے دوران شرح سو د میں11.5فیصد کمی ہوئی ہے اور یہ شرح 22فیصد سے کم کرکے 10.5فیصد پر لائی گئی ہے جس سے بزنس کمیونٹی کو اطمینان ہوا ہے ، ڈالر کی اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاﺅ ن کے باعث اورگراں فروش مافیا خلاف کاروائیوں سے مہنگائی کی شرح4.90 فیصد تک گرگئی ،معیشت میں بہتری سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کررہی ہے لیکن ملکی برآمدات میں اضافہ نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے ،حکومت کو اس جانب توجہ دینی چاہیئے کیونکہ ایکسپورٹ بڑھنے سے ملک میں ڈالر آئیں گے،سال2026میں ملکی برآمدات بڑھانے کیلئے ضروری ہے کہ بجلی اور گیس کے ٹیرف کو کم کیا جائے،توقع ہے کہ رواںسال 2026 میں حکومت مثبت اقدامات کرے گی جس سے ملکی انڈسٹری کو مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔
0 تبصرے