دنیا کے کروڑوں انسانوں کی زندگی سمندروں، دریاؤں اور جھیلوں کے اس نیلے کائناتی جہان سے جڑی ہوئی ہے۔ مچھلی صرف غذا کا ذریعہ نہیں، بلکہ روزگار، ثقافت، ماحولیات، تجارت اور انسانی بقا کی ایک عظیم ترین زنجیر ہے. ہر سال 21 نومبر کو ماہگیری کا عالمی دن اسی حقیقت کی یاد دہانی کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ دنیا یہ سمجھ سکے کہ اگر ہم نے آج اپنے آبی وسائل کو محفوظ نہ کیا تو کل نہ تو مچھلی باقی رہے گی اور نہ وہ لاکھوں خاندان جو اس کے سہارے زندہ ہیں. یہ دن محض ایک رسمی موقع نہیں. یہ ایک عالمی مکالمہ ہے ترقی، ماحول، معاشرت اور معیشت کے درمیان توازن تلاش کرنے کی کوشش ہے. یہ دن اس لیے بھی اہم ہے کہ دنیا کی غذائی ضروریات کا 20 فیصد سے زیادہ حصہ مچھلی پر مشتمل ہے، اور ترقی پذیر ممالک میں یہ شرح کہیں زیادہ ہے. سمندر نہ صرف خوراک دیتے ہیں بلکہ عالمی معیشت کو سہارا بھی فراہم کرتے ہیں. لیکن افسوس کہ یہی سمندر آج سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں.
دنیا بھر میں اس دن پر مذاکرات، آگاہی مہمات، تحقیقی رپورٹس، کمیونٹی مکالمے، ساحلی صفائی، تعلیمی کانفرنسیں اور پالیسی مباحثے منعقد کیے جاتے ہیں، تاکہ سمندری ماحول اور ماہی گیر برادریوں کے مسائل پر مشترکہ آواز اٹھائی جا سکے. پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود اپنی آبی دولت کے حوالے سے بھی نمایاں حیثیت رکھتا ہے.ملک 1,050 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی رکھتا ہے، جبکہ دریائے سندھ کا عظیم طاس ہزاروں دیہات اور شہروں کو زندگی بخشتا ہے. مگر اس منظرنامے میں سب سے اہم کردار سندھ کی ماہی گیر برادریوں کا ہے. کراچی فش ہاربر ملک کی سب سے بڑی مچھلی منڈی ہے. ٹھٹہ، سجاول، کیٹی بندر، کھاروچان، بوہارا، ریڑھی، ابراہیم حیدری اور مندرانی جیسے ساحلی قصبات کی زندگیاں سمندر سے چلتی ہیں. سندھ کے آبی وسائل ملک کی مجموعی مچھلی برآمدات کا تقریباً 60 فیصد فراہم کرتے ہیں. مینگرووز کے جنگلات دنیا کے بڑے ساحلی جنگلات میں شامل ہیں، جو ماہی گیری کی بقا کا قدرتی ذریعہ ہیں. تاہم اس روشن تصویر کا ایک تاریک پہلو بھی ہے، اور وہ ہے تیزی سے زوال پذیر آبی حیات، ماحولیاتی آلودگی، غیر قانونی جال، عالمی منڈیوں کا دباؤ، اور موسمیاتی تبدیلی.
ماہی گیری کا وجود خطرے میں کیوں ہے اس کے وجه اوور فشنگ، یعنی حد سے زیادہ شکار، دنیا بھر میں سمندر میں مچھلیوں کے اضافہ کی رفتار کم اور شکار کی رفتار بے قابو ہے۔
پاکستان میں بھی یہی صورت حال ہے. چھوٹی مچھلی ابھی پوری طرح جوان نہیں ہوتی کہ جال میں آ جاتی ہے. یہ سلسلہ جاری رہا تو مچھلی کے کئی اقسام ہمیشہ کے لیے نایاب ہو جائیں گی. غیر قانونی جال (بھگّا جال) سندھ کے ساحلی علاقوں کے ماہی گیر برسوں سے اس مسئلے پر چیخ رہے ہیں. بھگّا جال دراصل ایک ایسا جال ہے جو بڑی مچھلی، چھوٹی مچھلی، مچھلی کے بچے، حتیٰ کہ جھینگے سمیت تمام سمندری جیوت کو لپیٹ میں لے لیتا ہے. یہ سمندری بقا کے لیے ایک خاموش تباہی ہے۔ اس کے علاوہ سمندر کی بڑھتی آلودگی، پلاسٹک ویسٹ، کیمیکل فضلہ، سیوریج، تیل کا اخراج اور جہاز توڑنے کے ملبے نے سمندر کے سانسیں روک دیے ہیں. آلودگی صرف مچھلیوں کو نہیں مارتی بلکہ ان کے افزائشی مقامات، کورل ریفز اور مینگرووز جیسی قدرتی نرسریوں کو ختم کر رہی ہے.
ماہی گیر برادریوں کے سماجی مسائل پر نظر ڈالی جائے تو یہ ان لوگوں کا سب سے زیادہ سمندر پر منحصر ہے، مگر سب سے کم سہولتیں رکھتے ہیں. پینے کے پانی کی کمی، صحت کی سہولتوں کا فقدان، جدید آلات کی عدم فراہمی، مارکیٹ تک رسائی کے مسائل، موسم کی پیشگوئی کا نظام کمزور، یہ وہ خامیاں ہیں جو ماہی گیروں کو غربت کے دائروں میں قید رکھتی ہیں. موسمیاتی تبدیلی، ایک نیا چیلنج سمندر گرم ہو رہے ہیں، طوفان بڑھ رہے ہیں، اور بارشوں کے پیٹرن بدل رہے ہیں. ان تبدیلیوں نے مچھلیوں کے رہائشی پانیوں کو تبدیل کر دیا ہے. بہت سی اقسام شمال کی طرف یا گہرے پانیوں کی طرف منتقل ہو گئی ہیں، جس کا براہِ راست اثر ماہی گیری پر پڑ رہا ہے.
دنیا بھر میں اب ایک واضح اتفاق ہے کہ روایتی طریقوں کے ساتھ سمندر کا تحفظ ممکن نہیں. ضرورت اس بات کی ہے کہ پائیدار (Sustainable) ماہی گیری کو جدید انداز میں اپنایا جائے. افزائشی موسم میں پابندی ہو، مچھلیوں کے بچے تب ہی بچ پاتے ہیں جب انہیں افزائش کے موسم میں تحفظ دیا جائے. اس پابندی کے بغیر مستقبل کا ذخیرہ کبھی محفوظ نہیں ہوگا. غیر قانونی جالوں پر مؤثر کارروائی ہو. قانون تب ہی مؤثر ہوتا ہے جب اس پر سختی سے عمل ہو گا. بھگّا جال سمیت ممنوعہ جالوں کے خلاف سخت مہم ضروری ہے. مینگرووز کے جنگلات کی بحالی یہ جنگلات سمندر کے لیے وہی حیثیت رکھتے ہیں جو زمین کے لیے اَن دیکھے محافظ۔ یہ آبی حیات کے لیے نرسری، ساحلی کٹاؤ سے تحفظ، آلودگی کا فلٹر ہیں، کاربن ڈائی آکسائیڈ کا قدرتی ذخیرہ ہیں. ماہگیریوں کو جدید آلات اور تربیت دی جائے، جب تک ماہی گیروں کو جدید ٹیکنالوجی، نیویگیشن، سیفٹی، کولڈ اسٹوریج، اور مارکیٹ تک براہِ راست رسائی نہیں ملے گی تب تک وہ اپنی محنت کی اصل قیمت حاصل نہیں کر سکتے. خواتین ماہی گیر کارکنوں کی شمولیت لازمی ہے. پاکستان میں ہزاروں خواتین مچھلی کی صفائی، خشک مچھلی کی تیاری اور پروسیسنگ کے کاموں سے جڑی ہیں. انہیں قانونی، معاشی اور تکنیکی سہولیات میں شامل کیے بغیر ترقی ممکن نہیں.
سمندر کا تحفظ ہی انسان کا تحفظ ہے، ماہگیری کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ سمندر کوئی. لامحدود خزانہ نہیں. اس کی حدود ہیں، اس کی برداشت ہے، اس کے قوانین ہیں. اگر انسان ان حدود کو توڑتا رہے گا، تباہی یقینی ہے. یہ دن ہمیں درج ذیل بنیادی سوالات سے دوچار کرتا ہے کیا ہم اپنی موجودہ نسل کو محفوظ خوراک دے رہے ہیں؟ کیا ہماری آئندہ نسلوں کے لیے سمندر زندہ رہے گا؟ کیا ماہی گیر برادریاں ترقی کا حصہ ہیں یا صرف خام مال فراہم کرنے والی قوت؟ کیا ہماری معاشی پالیسیاں ماحول کو ترجیح دیتی ہیں؟ ان سوالوں کے جواب وہی ہیں جو دنیا کی پائیدار کوششوں میں نظر آتے ہیں، قدرت کا احترام، انصاف پر مبنی معاشی نظام، اور ماحول دوست ترقیاتی حکمت عملیاں.
آبی وسائل کی حفاظت، انسانیت کی حفاظت ماہگیری کا عالمی دن کسی جشن کا موقع نہیں بلکہ ایک تنبیہ ہے. یہ ایک عہد ہے کہ ہم سمندر کو ایک جاندار اور ضروری نظام کے طور پر پہچانیں، اسے محض منافع کا ذریعہ نہ سمجھیں. پاکستان اور خصوصاً سندھ کے ساحلی علاقوں کے لیے یہ دن محض ایک تقویمی تاریخ نہیں، بلکہ ساحلی شناخت، وسائل کے تحفظ اور معاشی استحکام کی علامت ہے. اگر ہم آج پائیدار ماہی گیری کے راستے پر نہیں چلے، تو وہ دن دور نہیں جب سمندر بھی خالی ہو جائیں گے اور ساحل بھی تنہا لیکن اگر ہم درست فیصلے کریں، سمندروں کی مہربانی کا احترام کریں اور ماہی گیر برادریوں کو اپنا شریکِ سفر بنائیں، تو یہ نیلا جہان ہماری آئندہ نسلوں کو بھی ویسی ہی سخاوت دیتا رہے گا جیسی آج ہماری زندگیوں کو دیتا ہے۔
0 تبصرے