قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2025 منظور کر لیا، چیف جسٹس کے اختیارات تین رکنی کمیٹی کو منتقل

قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2025 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا، جس کے تحت بینچز کی تشکیل کا اختیار چیف جسٹس سمیت تین رکنی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔

قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2025 منظور کر لیا، چیف جسٹس کے اختیارات تین رکنی کمیٹی کو منتقل

قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2025 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔ یہ بل وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا، جبکہ اس میں شق 191 اے کو خارج کر دیا گیا ہے۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق، بینچز بنانے کا اختیار اب چیف جسٹس کے انفرادی اختیار کے بجائے تین رکنی کمیٹی کے پاس ہوگا۔ اس کمیٹی میں شامل ہوں گے: چیف جسٹس سپریم کورٹ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج چیف جسٹس کے نامزد کردہ ایک جج اگر کمیٹی کا کوئی رکن غیر موجود ہو تو چیف جسٹس کسی اور جج کو نامزد کر سکیں گے۔ کمیٹی اکثریت کی بنیاد پر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کرے گی۔ بل کی منظوری کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قانون عدالتی اختیارات کی توازنِ تقسیم کی طرف ایک اہم قدم ہے، جبکہ ناقدین اسے چیف جسٹس کے اختیارات میں کمی قرار دے رہے ہیں۔