تھائی لینڈ: تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے جمعے کے روز معطل وزیرِاعظم پیتونگتارن شیناواترا کو اخلاقی بدعنوانی کے الزام میں عہدے سے برطرف کر دیا، عدالت نے انہیں کمبوڈیا کے سابق رہنما ہن سین کے ساتھ ایک متنازعہ فون کال پر قصوروار قرار دیا۔
39 سالہ پیتونگتارن شیناواترا اس طرح 2008 کے بعد عدالتی فیصلے کے ذریعے ہٹائے جانے والی 5ویں وزیرِاعظم بن گئی ہیں۔
آئینی عدالت کی 9 رکنی بینچ نے، جسے عام طور پر ملک کے قدامت پسند شاہی حلقوں کا حامی سمجھا جاتا ہے، قرار دیا کہ وزیرِاعظم نے سرکاری عہدے کی اخلاقی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں اور ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق، پیتونگتارن کی ہن سین سے جون میں ہونے والی کال کے دوران وہ سابق کمبوڈیائی رہنما کو ’انکل‘ کہہ کر مخاطب کر رہی تھیں جبکہ ایک سینیئر تھائی فوجی کمانڈر کو ’مخالف‘ قرار دے رہی تھیں۔
یہ گفتگو لیک ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھی اور سرحدی جھڑپوں نے درجنوں جانیں لے لیں، جبکہ ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے، بعد ازاں 29 جولائی کو ملائیشیا کی ثالثی میں جنگ بندی عمل میں آئی۔
0 تبصرے