یاد رہے کہ رضا پہلوی کے والد کو 1979 کے انقلاب کے دوران اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا
واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے آخری بادشاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی بظاہر ایک اچھے انسان دکھائی دیتے ہیں، تاہم انہوں نے اس بارے میں غیر یقینی کا اظہار کیا ہے کہ آیا پہلوی کو ایران کے اندر اتنی حمایت حاصل ہو سکے گی کہ وہ اقتدار سنبھال سکیں۔
اوول آفس میں خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ’’یہ ممکن ہے کہ ایران کی موجودہ حکومت گر جائے۔‘‘
ٹرمپ متعدد بار ایران میں مظاہرین کی حمایت میں مداخلت کی دھمکی دے چکے ہیں، تاہم انٹرویو کے دوران وہ رضا پہلوی کی مکمل حمایت کے معاملے پر تذبذب کا شکار نظر آئے۔
ٹرمپ نے کہا، ’’وہ بہت اچھے لگتے ہیں، لیکن مجھے معلوم نہیں کہ انہیں اپنے ملک میں کس طرح قبول کیا جائے گا اور ہم ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’میں نہیں جانتا کہ ان کا ملک ان کی قیادت قبول کرے گا یا نہیں، اور اگر قبول کر بھی لے تو یہ میرے لیے بالکل ٹھیک ہوگا۔‘‘
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کا رضا پہلوی سے ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا، ’’یہ ممکن ہے کہ مظاہروں کے باعث تہران کی حکومت گر جائے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی حکومت ناکام ہو سکتی ہے، چاہے یہ حکومت گرے یا نہ گرے، مگر ایک دلچسپ صورتحال پیدا ہونے والی ہے۔‘‘
یاد رہے کہ 65 سالہ رضا پہلوی امریکا میں مقیم ہیں اور ایران سے باہر ہونے کے باوجود مظاہروں کے دوران نمایاں رہے ہیں۔
ان کے والد کو 1979 کے انقلاب کے دوران اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔ ایران کی اپوزیشن مختلف گروہوں اور نظریاتی دھڑوں میں منقسم ہے، جن میں پہلوی کے حامی بھی شامل ہیں، تاہم ایران کے اندر ان کی حمایت منظم شکل میں موجود نہیں ہے۔
0 تبصرے