پاکستان میں بڑھتے ہوئے تھیلیسیمیا کے کیسز اور خون کے عطیات کی اہمیت

تحریر:سیدہ سونیا عمران

پاکستان میں بڑھتے ہوئے تھیلیسیمیا کے کیسز اور خون کے عطیات کی اہمیت

تھیلیسیمیا پاکستان میں تیزی سے بڑھنے والے موروثی امراض میں سے ایک ہے، جو نہ صرف متاثرہ بچوں بلکہ ان کے خاندانوں کے لیے بھی ایک بڑا جسمانی، ذہنی اور مالی چیلنج بن چکا ہے ہر سال ہزاروں بچے تھیلیسیمیا میجر کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، جنہیں زندگی بھر باقاعدگی سے خون کی منتقلی اور مناسب طبی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے اگر بروقت علاج اور خون دستیاب نہ ہو تو ان کی زندگی شدید خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے پاکستان میں تھیلیسیمیا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی ایک بڑی وجہ شادی سے قبل تھیلیسیمیا اسکریننگ نہ کروانا اور عوام میں اس بیماری کے حوالے سے آگاہی کا فقدان ہے ماہرین کے مطابق اگر شادی سے پہلے دونوں افراد کا تھیلیسیمیا ٹیسٹ لازمی کرایا جائے تو مستقبل میں اس بیماری کے شکار بچوں کی پیدائش میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے بدقسمتی سے اس حوالے سے ابھی بھی معاشرے میں سنجیدگی کا فقدان نظر آتا ہے تھیلیسیمیا میجر میں مبتلا بچوں کو ہر کچھ دن بعد یا کبھی ہفتے میں ایک مرتبہ خون کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ ان کے جسم میں ہیموگلوبن کی سطح برقرار رہے خون کی عدم دستیابی ان بچوں کی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ رضاکارانہ خون کے عطیات ان معصوم بچوں کی زندگی بچانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیںبدقسمتی سے پاکستان میں خون عطیہ کرنے کا رجحان ابھی بھی ضرورت کے مطابق نہیں ہے اکثر افراد صرف کسی قریبی عزیز یا دوست کی ضرورت پر خون دیتے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں رضاکارانہ اور باقاعدہ خون عطیہ کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اگر ہر صحت مند شہری سال میں چند مرتبہ خون عطیہ کرے تو ملک میں خون کی کمی کے مسئلے پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے تھیلیسیمیا کے مریضوں کے علاج کے ساتھ ساتھ انہیں آئرن کی زیادتی سے بچانے کے لیے مخصوص ادویات، مسلسل طبی معائنہ اور خصوصی نگہداشت بھی ضروری ہوتی ہے، جس پر بھاری اخراجات آتے ہیں بہت سے خاندان محدود وسائل کی وجہ سے ان تمام ضروریات کو پورا نہیں کر پاتے، اس لیے حکومتی اداروں، فلاحی تنظیموں اور مخیر حضرات کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان خاندانوں کی بھرپور مدد کریںتعلیمی ادارے، سماجی تنظیمیں، مساجد، میڈیا اور نجی ادارے عوام میں تھیلیسیمیا سے متعلق آگاہی پیدا کرنے، شادی سے قبل اسکریننگ کی اہمیت اجاگر کرنے اور خون عطیہ کرنے کی مہمات چلانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں نوجوان نسل اگر اس قومی ذمہ داری کو اپنا لے تو ہزاروں بچوں کی زندگیاں محفوظ بنائی جا سکتی ہیں حکومت کو چاہیے کہ تھیلیسیمیا کی روک تھام کے لیے قومی سطح پر مو¿ثر پالیسی مرتب کرے، مفت یا کم لاگت اسکریننگ کی سہولت فراہم کرے، بلڈ بینکوں کے نظام کو مزید مضبوط بنائے اور رجسٹرڈ تھیلیسیمیا سینٹرز کی تعداد میں اضافہ کرے اس کے ساتھ ساتھ خون عطیہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی اور محفوظ خون کی فراہمی کو یقینی بنانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے آئیے ہم سب اس عزم کا اظہار کریں کہ تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کو کبھی خون کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے ایک صحت مند انسان کا چند منٹ کا وقت اور خون کا ایک عطیہ کسی بچے کی زندگی بچا سکتا ہے خون عطیہ کرنا صرف ایک انسانی ہمدردی کا عمل نہیں بلکہ ایک عظیم سماجی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے اگر ہم آگاہی، احتیاط اور رضاکارانہ خون کے عطیات کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو پاکستان کو تھیلیسیمیا کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔