میرٹ اور مستقبل کے تحفظ کے لیے احتجاج کرنے والے نوجوان پرعزم، قومی شاہراہ پر دھرنے کی تجویز

میرٹ اور مستقبل کے تحفظ کے لیے احتجاج کرنے والے نوجوان پرعزم، قومی شاہراہ پر دھرنے کی تجویز

حیدرآباد (رپورٹر): سندھ پبلک سروس کمیشن (ایس پی ایس سی) میں مبینہ طور پر میرٹ کی پامالی کے خلاف متاثرہ نوجوانوں کی ایکشن کمیٹی کی تحریک کو ترقی پسند تنظیموں، قوم پرست سیاسی جماعتوں اور وکلا تنظیموں کی حمایت حاصل ہو گئی۔ گزشتہ روز سندھ پبلک سروس کمیشن کے دفتر کے سامنے جاری احتجاجی کیمپ کے چھٹے روز سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر سید زین شاہ، جیئے سندھ قومی محاذ (بشیر خان) کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز کالانی، پورہیت مزاحمت تحریک کے صدر مسرور شاہ اور کراچی بار کے صدر عامر نواز وڑائچ اپنے اپنے وفود کے ہمراہ کیمپ پہنچے اور احتجاجی نوجوانوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ کراچی بار کے صدر عامر نواز وڑائچ نے ایکشن کمیٹی کو تجویز دی کہ اگر 2 اگست تک سندھ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین کو عہدے سے نہ ہٹایا گیا تو 3 اگست سے قاسم آباد بائی پاس پر دھرنا دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے احتجاجی نوجوانوں کو مشورہ دیا ہے کہ صرف یہاں بیٹھنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، اگر چیئرمین کو نہیں ہٹایا جاتا تو دھرنا دیا جائے گا اور ہر صورت میں انہیں ہٹانے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ نوجوان اس تجویز کی حمایت کریں گے، تاہم حتمی فیصلہ انہی کا ہوگا۔ اس موقع پر سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر سید زین شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 8 فروری 2024 کے انتخابات کے نتیجے میں اقتدار میں آنے والے حکمران خود میرٹ کے بجائے ایک جعلی نظام کے ذریعے اقتدار میں آئے ہیں، جبکہ سندھ پبلک سروس کمیشن کی صورتحال بھی الیکشن کمیشن جیسی ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں نوجوانوں کے لیے میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ سندھ اور وفاقی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ملک کو اہلیت اور میرٹ کی بنیاد پر نہیں چلایا گیا تو یہ پاکستان کی خدمت نہیں بلکہ اس کی تباہی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پبلک سروس کمیشن کے ذریعے نااہل افراد بھرتی کیے گئے تو وہ عوام کا استحصال کریں گے۔ جیئے سندھ قومی محاذ (بشیر خان) کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز کالانی نے کہا کہ وہ نوجوانوں کی اس تحریک کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ماضی میں اسی ادارے کی جانب سے میرٹ کی پامالی کا شکار رہ چکے ہیں۔ سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ میرٹ کی خلاف ورزیوں کے خلاف قائم ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں زبیر اللہ، فخرالزمان کوہارو، سکی لدھو چانڈیو، حنیف جوکھیو، ڈاکٹر طارق سہتو اور فرمان علی ملگانی نے احتجاجی کیمپ میں آنے والی تمام سیاسی و سماجی شخصیات اور تنظیموں کا شکریہ ادا کیا۔ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے عامر نواز وڑائچ کی جانب سے سڑک بند کرنے سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کی دیگر تجاویز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ تحریک میں شامل سندھ بھر کے ساتھیوں اور کور کمیٹی سے مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے احتجاج کی حمایت کرنے والی تمام جماعتوں اور تنظیموں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح کیا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے خلاف جاری تحریک میں فیصلہ سازی کا اختیار صرف طلبہ کے پاس ہے اور اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کا فیصلہ ہی حتمی ہوگا۔ سندھ ایکشن کمیٹی کے رہنما وجاہت احمد نے کہا کہ احتجاجی کیمپ کے انتہائی مثبت اور مؤثر نتائج سامنے آ رہے ہیں۔