ایران میں تبدیلی کا عمل شروع؟

ملک کے اندر کس نوعیت کی تبدیلی جنم لے گی؟

ایران میں تبدیلی کا عمل شروع؟

تہران (نجی اخبار کی رپورٹ) ایران میں تبدیلی کا عمل نظر آ رہا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا مشکل ہے کہ ملک کے اندر کس نوعیت کی تبدیلی جنم لے گی۔ اب تک ایرانی حکام کی گرفت مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ نہ تو اعلیٰ سیاسی حلقوں میں کسی واضح دراڑ یا اختلاف کے آثار نظر آتے ہیں اور نہ ہی سیکیورٹی اداروں میں، جن میں طاقتور پاسدارانِ انقلاب بھی شامل ہیں، جو 1979 کے انقلاب کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے تھے۔ دوسری جانب اپوزیشن میں کئی ایسے رہنما موجود ہیں جو جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ کبھی ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہیں اور کبھی حکومت کو نشانہ بناتے ہیں۔ ایران کے اندر بھی کچھ باوقار اور اثر و رسوخ رکھنے والی آوازیں ابھر رہی ہیں، جن میں نوبیل انعام یافتہ نرگس محمدی شامل ہیں، جو تاحال جیل میں ہیں اور ملک کے اندر پُرامن تبدیلی کی حمایت کر رہی ہیں۔ اس تازہ بے چینی کے دوران سابق ولی عہد رضا پہلوی نے بھی عوام کو متحرک کرنے کی صلاحیت ظاہر کی ہے، لیکن ماضی میں وہ کسی بھی موقع پر خود کو ایک متحد کرنے والی یا یکجا کرنے والی شخصیت ثابت نہیں کر سکے۔ سماجی تحریکیں اکثر اس بات پر فخر کرتی ہیں کہ ان کے پاس کوئی مرکزی رہنما نہیں ہوتا، جس کے باعث حکمرانوں کے لیے کوئی نمایاں ہدف موجود نہیں رہتا جسے ختم کر کے تحریک کو دبایا جا سکے۔ تاہم یہ صورتحال ان ایرانی شہریوں کے لیے تشویش کا باعث ہے جو تبدیلی تو چاہتے ہیں مگر انتشار یا نظام کی مکمل تباہی کے خواہاں نہیں۔ وہ انقلاب نہیں بلکہ اصلاحات چاہتے ہیں۔ اس بے چینی سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اب کوئی سادہ یا آسان حل باقی نہیں رہا۔ ایران معاشی اور سیاسی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ تبدیلی کے عناصر ضرور موجود ہیں، لیکن وہ کس طرح ایک دوسرے سے جڑیں گے اور آگے بڑھیں گے، اس بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔