نوابشاہ کے قریب پولیس کی جانب سے کوچ سے اتارے گئے صحافی کے بیٹے اور ساس 80 دن سے لاپتا
ہائی کورٹ حیدرآباد میں نوابشاہ پولیس کی تحویل میں لینے کا اعتراف
3 تبصرے
انتہائی افسوسناک انسانی المیہ ہے اسکی ماں کی حالت کیا ہوگی جسکا معصوم کمسن بیٹا اور بیمار بوڑھی ماں کو اپنے ہی ریاستی محافظوں نے لاپتہ کرادیا کیا ظلم اور بربریت ہے بچوں بوڑھی ماؤں کا کیا قصور اور جرم ہے ساری عمر جن گمنام ہیروز پر نازاں تھے آج وہی اغواء کار بن گئے ہیں کورٹ مارشل کے ججوں یا افسران کو سندھ کے گھمبیر ہوتے معاملات پر بھی فوری نوٹس لینا چاہیے کیا بچوں اور بوڑھی ماں کو جبری ریاستی تحویل میں رکھنا قید کی صعوبتیں دینا ہمارے ریاستی اداروں کو زیب دیتا ہے شرم شرم اور شرم کا مقام ہے اللہ ہی حافظ ہے ہماری ریاست اور مملکت خداداد کا یااللہ تو ہی اپنا رحم کر ان بوڑھی ماؤں اور بچوں پر
سوچیے اُن ماں باپ کی حالت کیا ہوگی جس کا معصوم کمسن بچہ اور بیمار ضعیف ماں اپنے ہی ریاستی محافظوں کے ہاتھوں لاپتہ کر دیے جائیں؟آخر اس بچے اور بوڑھی ماں کا کیا قصور ہے؟ ان کا جرم کیا ہے؟ یہ کیسا ظلم کیسی بربریت اور کیسا انصاف ہے کہ جن اداروں پر قوم نے ہمیشہ فخر کیا جن گمنام ہیروز کو اپنا محافظ سمجھا آج انہی پر اغوا اور جبری گمشدگیوں کے الزامات لگ رہے ہیں۔ یہ خوفناک صورتحال نہ صرف انسانی حقوق بلکہ ریاست کی ساکھ کے لیے بھی ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ جب ایس ایس پی حیدرآباد ہائیکورٹ حیدرآباد میں اپنی جمع کرائی گئی رپورٹ میں نوابشاہ پولیس کا کمسن بچے اور بوڑھی خاتون کو جبری لاپتہ کرنے کا اعتراف کرچکے ہیں تو پھر ان انتہائی سنگین معاملات پر فوری اور مؤثر کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟ آخر کیوں مظلوم خاندانوں کو لمبی تاریخوں اور بے یقینی کے عذاب میں دھکیلا جا رہا ہے؟ کورٹ مارشل کے ججوں اور ریاستی حکام کو سندھ میں بڑھتے ہوئے ان سنگین معاملات کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ کیا بچوں اور بیمار بوڑھی ماؤں کو جبری تحویل میں رکھنا انہیں قید و اذیت کی صعوبتوں سے گزارنا کسی مہذب ریاست اور اس کے اداروں کو زیب دیتا ہے؟ یہ لمحۂ فکریہ بھی ہے اور لمحۂ شرم بھی۔ شرم شرم اور صرف شرم۔ اللہ تعالیٰ ان بے بس ماؤں معصوم بچوں اور تمام مظلوم خاندانوں پر اپنا خصوصی رحم فرمائے انہیں تحفظ عطا کرے اور سچ انصاف اور قانون کی بالادستی کو قائم کرے۔ یا اللہ! ہماری ریاست اور مملکتِ خداداد پاکستان پر اپنا رحم فرما
ایک ماں کے لیے اپنے کمسن بیٹے اور بیمار بوڑھی ماں کی جدائی سے بڑھ کر کوئی اذیت نہیں۔ اگر واقعی بچوں اور بزرگ خواتین کو جبری طور پر لاپتہ رکھا جا رہا ہے تو یہ نہ صرف انسانی حقوق بلکہ ہمارے معاشرتی اور اخلاقی اصولوں کے بھی منافی ہے۔ ریاست کی طاقت کمزوروں کے تحفظ کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ ان کی بے بسی میں اضافے کے لیے۔ متعلقہ اداروں اور عدالتوں کو اس معاملے کا فوری اور شفاف نوٹس لینا چاہیے تاکہ حقائق سامنے آئیں اور اگر کسی کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو اسے انصاف مل سکے۔ اللہ تعالیٰ ہر مظلوم کی مدد فرمائے اور ہمارے معاشرے میں عدل، رحم اور قانون کی بالادستی قائم کرے