سندھ انقلاب کی دھرتی ہے، قانون کی حکمرانی کے لیے اعلانِ جنگ کرنا ہوگا: وکلا کنونشن

سندھ انقلاب کی دھرتی ہے، قانون کی حکمرانی کے لیے اعلانِ جنگ کرنا ہوگا: وکلا کنونشن

کراچی (رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کراچی کی جانب سے "آل پاکستان وکلا کنونشن" منعقد کیا گیا، وکلا نے اعلان کیا کہ اب مذمت نہیں بلکہ مزاحمت کی ضرورت ہے۔ کنونشن میں سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر حسیب جمالی، فریدہ، سینئر قانون دان علی احمد کرد، منیر احمد ملک، بابر مرتضیٰ خان، عابد زبیری، سلمان اکرم راجہ، عرفان حیات باجوہ، صلاح الدین احمد، اشتیاق اے خان، راجہ جواد اقبال، ارشد مجید کوکر، رانا ضیاء عبدالرحمان، شفقت محمود چوہان، شعیب سرکی، اختر حسین، حق نواز تالپور، غلام شاہ بخاری، رشید راجڑ اور میر مگھریو سمیت دیگر وکلا نے شرکت کی۔ لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر رانا ضیاء عبدالرحمان نے کہا کہ ہمیں آج ان ترامیم پر بات کرنا ہوگی جو آ رہی ہیں، سیاسی جماعتوں کے اپنے اپنے مؤقف ہیں مگر ہمیں ملک کے لیے کام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک بھی ایک وکیل نے بنایا تھا اور پہلا آئین بھی ذوالفقار علی بھٹو نے دیا، جو ایک وکیل تھے۔ ہم میں سے جو بھی جج بنتا ہے اس کے مفادات بدل جاتے ہیں، آج لوگ وکلا کی طرف دیکھ رہے ہیں، یہ صرف میرا نہیں بلکہ ہم سب اور ہماری آنے والی نسلوں کا مسئلہ ہے، ہمیں ماضی کی طرح متحد ہونا ہوگا۔ سندھ کی زمین انقلاب کی زمین ہے، آج بھی لاہور کے کسان ہال میں جی ایم سید جیسے مفکرین کی تصاویر آویزاں ہیں۔ سپریم کورٹ بار کے سابق سیکریٹری راجہ جواد اقبال نے کہا کہ قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کا نام نہیں رہا، ہمیں قانون سازی پر بھی بات کرنا ہوگی۔ وہ کہتے ہیں پارلیمنٹ سپریم ہے، کیا اس پارلیمنٹ کو عوامی مینڈیٹ حاصل ہے؟ غیر قانونی پارلیمنٹ کا بنایا ہوا قانون بھی غیر قانونی ہوتا ہے، اگر ملک میں قانون کی حکمرانی ہوگی تو عدلیہ آزاد ہوگی۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر رابیہ باجوہ نے کہا کہ یہ تحریک ہمارے نوجوان رہنماؤں حسیب جمالی اور عامر وڑائچ نے شروع کی ہے، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یحییٰ آفریدی اور دیگر ججوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ اب تحریک شروع ہو چکی ہے، انہوں نے صحافیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ ہمیں ایمان مزاری، ہادی علی چٹھہ اور دیگر سیاسی افراد کی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہوگا۔ سندھ بار کونسل کے رکن حق نواز تالپور نے کہا کہ پاکستان کا آئین اب تک صرف امیروں کو فائدہ دیتا رہا ہے، وفاقی نظام ناکام ہو چکا ہے اور عوام کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایم سید جیسے رہنما جیلوں میں رہے، آج بلوچستان کی صورتحال دیکھیں، جو قانون کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں وہ جیلوں میں ہیں، ایمان مزاری کے لیے آوازیں اٹھتی ہیں مگر ماہ رنگ بلوچ کے لیے کوئی نہیں بولتا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو جینے کا حق دیا جائے۔ سینئر وکیل علی احمد کرد نے کہا کہ ہمیں جوش و جذبے کے ساتھ اعلانِ جنگ کرنا ہوگا، یہ اعلان سیاسی رہنماؤں کو کرنا چاہیے تھا مگر وہ پیچھے کھڑے ہیں۔ انہوں نے وکلا کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کراچی، ساہیوال اور کوئٹہ میں وکلا نے جانیں قربان کیں، سچ بولنا جرم بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 25 کروڑ عوام کو اٹھنا ہوگا اور عمران خان نے ثابت کیا کہ یہ قوم بیدار ہو سکتی ہے۔ سینئر وکیل اختر حسین نے کہا کہ عوام ستر سال سے جدوجہد کر رہے ہیں، حالیہ آئینی ترامیم بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں، 25 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں اور جب تک زمینوں کی اصلاحات نہیں ہوں گی مسائل برقرار رہیں گے۔ پی ٹی آئی رہنما اور وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم 2007 کی تحریک کے رہنماؤں کو سلام پیش کرتے ہیں، ام رباب جیسے لوگوں کی قربانیاں مثال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان قوم کی امید ہیں، ہم اعلانِ جنگ کی حمایت کرتے ہیں اور ناانصافی کے نظام کے خلاف کھڑے ہیں، ہم عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے اور اب پیچھے نہیں ہٹیں گے۔