منگل، 20 اکتوبر 2026
بریکنگ

بھارت ایٹمی حملے میں پہل کرسکتا ہے، سابق فوجی مشیر کا انتباہ

تازہ ترین 20th Oct 2026 8 مناظر
بھارت ایٹمی حملے میں پہل کرسکتا ہے، سابق فوجی مشیر کا انتباہ
اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان کی نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) مظہر جمیل نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جوہری حکمت عملی جنوبی ایشیا میں تباہ کن فوجی تصادم کے خطرات بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت کو جوہری تجارت کے حوالے سے دی گئی رعایت پر نظرثانی کی جائے۔ لندن میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز (آئی آئی ایس ایس) کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مظہر جمیل نے کہا کہ بھارتی آبدوزوں کے ذریعے جوہری حملے کی صلاحیت اور میزائل تجربات کے بارے میں پیشگی اطلاع نہ دینے سے بحران کے دوران غلط اندازوں اور کشیدگی میں تیزی سے اضافے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ پیش رفت بھارت کی جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی اعلان کردہ پالیسی کی ساکھ پر سوالات اٹھاتی ہے۔ انہوں نے 2008 میں نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) کی جانب سے بھارت کو دی گئی رعایت پر بھی نظرثانی کا مطالبہ کیا، جس کے تحت جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کیے بغیر بھارت کو پُرامن شہری مقاصد کے لیے جوہری تجارت کی اجازت دی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس رعایت اور عالمی ٹیکنالوجی تک رسائی کے باعث بھارت کے جوہری اور میزائل پروگراموں میں توسیع سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ مظہر جمیل کے مطابق مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے فوجی تصادم کے بعد مستقبل میں کسی بھی بحران کے دوران کشیدگی پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جارحیت کے جواب میں روایتی فوجی کارروائی کی اپنی ’’کوئڈ پرو کو پلس‘‘ حکمت عملی برقرار رکھے گا۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے بھارتی فیصلے پر بھی تنقید کی، جبکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کے لیے سیاسی مذاکرات اور بحرانوں سے نمٹنے کی خاطر مشترکہ طریقہ کار قائم کرنے کی پیشکش کی۔ انہوں نے جنوبی ایشیا میں تنازعات کے حل کے لیے غیرجانبدار عالمی ثالثی پر بھی زور دیا۔
شیئر کریں:

0 تبصرے

تبصرہ کریں

مطلوب خانہ
مطلوب خانہ