منگل، 20 اکتوبر 2026
بریکنگ

صدر زرداری نے آئینی تقاضے پورے نہیں کیے، فیصلے طاقت کے زور پر نہیں بلکہ آئین کے مطابق ہونے چاہئیں: مولانا فضل الرحمان

تازہ ترین 20th Oct 2026 14 مناظر
صدر زرداری نے آئینی تقاضے پورے نہیں کیے، فیصلے طاقت کے زور پر نہیں بلکہ آئین کے مطابق ہونے چاہئیں: مولانا فضل الرحمان
اسلام آباد (ویب ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کے حوالے سے حکومتی مؤقف بے بنیاد ہے، اس کا اصل مقصد صوبے کے معدنی وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔ پارٹی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ صورت حال سے آگاہ کرنے کے لیے پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں بننے والی عبوری کونسل میں جمعیت علمائے اسلام کا کوئی رکن شامل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت طاقتور حلقوں کے کہنے پر طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے۔ صدر نے آئینی تقاضے پورے نہیں کیے۔ ہم نے حکومت میں رہتے ہوئے بھی اختلاف کیا اور اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی اتفاق کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام سیاسی مذاکرات پر یقین رکھتی ہے۔ اگر حکومتی پالیسیوں پر تحفظات ہیں تو الزام تراشی کے بجائے سیاسی انداز میں جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو شکایات ہیں تو پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلا کر اس معاملے پر بات چیت کی جائے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے حق میں پیش کیا جانے والا حکومتی مؤقف بے بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد آپریشن کیے گئے، لیکن ان کے نتائج کیا نکلے؟ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے فاٹا کو صوبے میں ضم کیا، لیکن آج اسی جماعت نے سابق فاٹا کو مرکز کے حوالے کردیا ہے۔ ان کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کی نظر میں یہ سب کچھ صوبے کے معدنی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں تبدیلی لانے یا کسی کو ہٹانے اور بٹھانے کا عمل طاقت کے بجائے آئین کے مطابق ہونا چاہیے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور آصف علی زرداری کے دور میں بھی گورنر راج نافذ کیا گیا تھا، لیکن کیا اس وقت اسے قبول کیا گیا تھا؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صدر نے اطمینان کے بغیر دستخط کرکے آئینی تقاضے کی خلاف ورزی کی۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کوئی ایک طاقت پوری قوم کے مفادات کی ترجمانی نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ آج ایشیا ایک بار پھر عالمی معیشت کا مرکز بن رہا ہے، اس لیے مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمت عملی تیار کرنی چاہیے۔ انہوں نے اسلامی دنیا کا ایک مؤثر بلاک قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی کانفرنس کا موجودہ بلاک غیر مؤثر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے مسلم اتحاد کو روکنے کی کوشش ہیں۔ دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے بھی دہشت گردی کے باعث ڈیڑھ سو سے زائد لاشیں اٹھائی ہیں، لیکن انہوں نے بندوق کی سیاست کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے ایک نیا نظام متعارف کرایا تھا جو ناکام ہوگیا۔ اس وقت پولیس کو انتظامیہ سے الگ کردیا گیا تھا۔ بعدازاں اس نظام کو واپس لینے کی باتیں ہوئیں، لیکن اب 25 سال بعد دوبارہ اسی نظام کو بحال کرنے کی بات کی جارہی ہے۔ فاٹا کے انضمام کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی جماعت نے اس وقت بھی وسیع مشاورت کا مطالبہ کیا تھا، لیکن یہ فیصلہ فاٹا کے عوام پر مسلط کردیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جن اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی باتیں ہورہی ہیں، وہاں فاٹا کے عمائدین سے ملاقاتوں کے دوران انضمام کی ناکامی پر اتفاق کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف، شہباز شریف اور آصف علی زرداری کے ساتھ پہلے بھی احترام کا رشتہ تھا اور آج بھی ہے۔ سابق امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فاٹا میں فوج بھیجنے کی تجویز امریکا نے دی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں سرمایہ کاری پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ صرف امریکا ہی اس میں دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟ ان معاملات کو قوم کے سامنے لایا جائے۔ مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا کہ فاٹا جرگہ بلایا جارہا ہے، جبکہ اسلام آباد میں طلبہ کنونشن بھی منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 26 نومبر کو سرگودھا میں عوامی جلسہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مجلس شوریٰ نے نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے اور ان کی جماعت 2018 اور 2024 کے انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ نہیں مانگتے، کیونکہ انہوں نے پارلیمنٹ میں حلف اٹھایا ہے اور وہ اس حلف کا پاس رکھیں گے۔
شیئر کریں:

0 تبصرے

تبصرہ کریں

مطلوب خانہ
مطلوب خانہ