وہ پھول تھا، خوشبو تھا، دل کو لبھانے والی بسنت رت کاجھونکا تھا، وہ چاند کا ٹکڑا تھا یا کسی گئلیکسی کا چمکتا ہوا ستارہ، وہ بادل کا سایہ تھا یا نیلے أسمان کا دلفریب نظارہ، وہ فطرت کا حسن تھا، قدرت کا تحفہ تھا وہ جب بھی بولتا تو اس کی گفتار کسی أبشار سے گرتے ہوئے پانی کی طرح تھی جو اپنے وجود میں أنے والی ہر چیز کو اپنے ساتھہ لے جاتا ہے، وہ کیا تھا ؟ وہ سب کچھہ تھا سچ تو یے کہ وہ جنت کے گلستاں کا ایک خوشبودار پھول تھا جسے بہت ہی کم وقت کے لیے دھرتی پہ اپنے ماں باپ رشتیداروں اور دوستوں کے لیے چنا گیا تھا.
وہ لمحہ أج بھی مجھے اچھی طرح یاد ہے جب وہ چار سال سے بھی کم عمر کا تھا اور میں اسے اپنی بائیک پہ بٹھا کر پارک کا سیر کرانے لے گیا تھا، اسے فطرت کے نظارے بہت پسند تھے وہ کتنا خوش تھا اس کی ننھی سی مسکراہٹ نے موسم کے دامن میں پھول بھردیے تھے اور وہ ہی لمحہ اعتبار اور احترام کا تھا جسے اس نے أخر تک نبھایا،
اس نے 6 جولاء 1991میں ایک بہت ہی نازک نفیس اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان دوست مسیحا ، ڈاکٹر عبدالغفار بھٹی صاحب کے گھر دادو میں جنم لیا. ابتدائی تعلیم أرمی پبلک اسکول دادو، پھر کیڈٹ کالیج لاڑکانہ، انٹرمیڈیئیٹ گورنمینٹ کالج جوھی سے حاصل کی، وہ بچپن سے ہی بہت ذہین اور ہونہار تھا اسے انجنیئر بننے کا بہت شوق تھا ماں باپ کی محبت، محنت، تربیت اور وقت کی انگڑائی نے اسے تراش کر ایک نایاب ہیرہ بنا دیا، وہ NED یونیورسٹی سے ایک کامیاب اور باصلاحیت الیکٹریکل انجنیئر بنا اور پاور سیمینٹ کمپنی میں کام کرنے لگا مگر اس دنیا کی کرپٹ سوسائٹی اس کی منزل اور جستجو نہیں تھی اس نے ملازمت چھوڑ کر ذاتی کاروبار کو ترجیح دی، وہ خود اعتماد اور باصلاحیت اتنا کہ کوئی بھی اسے باتوں میں ہرا نہ سکے نیک مومن اور حضور شرم اتنا کہ اپنی سیلفی نکالتے ہوئے بھی شرمانے لگتے تھے.
احساس ذمیداری، ازدواجی زندگی اور نیک خیالات نے اسے اور مضبوط بنادیا مگر سرحدوں کی بے حس لکیریں اسے دوڑاتی رہیں اور وہ ہوائوں کا سینہ چیر کر کبھی کراچی، دادو تو کبھی ملتان، جھانیہ جیسے طویل سفر کو بھی کسی فاتح جنگجو سپہ سالار کی طرح مسکراتے طئے کرتے رہے کیونکہ اس کے وجود میں ملتان کی محبت کے ساتھہ سندھ کی مٹی کے بھی سارے رنگ شامل تھے، ایک دن اس کھلتے گلاب کو دکھ کے لمحے نے اس وقت اپنی لپیٹ میں لے لیا جب اسکے والد محترم اور انسان دوست ڈاکٹر صاحب کا 22 مارچ 2022 کو انتقال ھوگیا، اس کی أنکھ سے أنسو بارش کی طرح ٹپکنے لگے میں نے اس شدید غم کی حالت میں اپنے دونوں کمزور کندھے اس کے حوالے کردیے تاکہ وہ اپنا غم اور أنسو سکوں کے ساتھہ مجھے دے سکے، حالانکہ میں خود ڈاکٹر صاحب کے غم میں نڈھال تھا مگر اسکی نیک صحبت نے میرے بکھرے خیالات کو امید کے شیشے میں اتار کر محفوظ کردیا اور اللہ کی رضا, امید اور حوصلے کے ساتھ خود کو بھی سنبھالا، محبت کی مہنگی بازار میں اس نے اخلاق اور مسکراہٹ کے سستے دام پہ ہم سب کو خرید لیا وہ جب بھی مجھہ سے ملتا میں وقت کے نہ رکنے والے کانٹوں کو جیسے روک کر اسکے ساتھ بیٹھا رہتا شہر خموشاں میں وہ اکیلا ہی میرے دکھہ سکھہ کا ساتھی تھا وہ کچھہ کرنا چاہتا تھا، اپنی فیملی کے لئے ،انسانیت کے لئے، فلسطین کے مسلمانوں کی مالی مدد کرنے کے لئے وہ ہر وقت فکر مند رہتا تھا، وہ نیکی کی راہ پہ گامزن اپنے نام جیسا جیتا ہوا اور خدا سے چلتے پھرتے باتیں کرنے والا بچہ تھا،
. اپنے انہی خیالات اور کردار کی وجہ سے ہر کوئی اسے چاہتا تھا اور ہماری چاہت ہی اسے ہم سے دور لے گئی کیونکہ اسکے دھرتی پہ چاہنے والوں پر أفاق کے چاہنے والے حاوی ہوگئے اور وہ جستجو رزق حلال کے راستے میں لاہور سے آتے ہوۓ ایک روڈ حادثے میں شہید ہوگئے جب کہ انکے تین ساتھی شدید زخمی ہوئے اور یوں خدا نے اسے یکم نومبر 2025 کو 34 سال کی عمر میں جلدی واپس بلالیا، وہ ایک انجنیئر تھا اس نے کوئی عمارت نہیں بنائی مگر جب رخصت ہوا تو نیکی اور کردار کا وہ اعلیٰ مقام کہ جس پہ ہر کسی کو رشک اجاۓ،
اے میرے چھوٹے بھائی جیسے بہترین دوست .! بلال احمد بھٹی تم اچانک ہم سب کی أنکھوں میں اپنی یادوں کا خوبصورت عکس اور دل میں اپنا غم و فکر چھوڑ کر ہم سے دور چلے گئے ہو، دارالفنا میں تو خدا نے ہمیں تم سے ملوایا مگر دارالبقا میں بھی تم سے پھر سے ملنے کی خواہش اور امید باقی رہے گی، کیونکہ تمہاری ایک ملاقات جیسے مدتوں سے چھپے ہوئے غم کسی ان جان ندی میں گم کردیتی تھی, اور من کی تمام ویرانیاں ختم ہو جاتی تھیں. یہ دلفریب اور مکار دنیا ایسے ہی چلتی رہے گی اور ہر بار مجھے اپنی گرفت میں لیتی رہے گی مگر میں تجھے کبھی نہیں بھول سکتا، تمہاری یاد میں میرے ٹوٹے ہوئے وجود کا احساس کیا ہوگا ؟ ٹیکسیلا، ہڑاپا، کینجھر، مکلی یا موئن جو داڑو ،جھاں خوشی کی کیفیت کا احساس بڑی مشکل سے ہی أتا ہے .جب بھی رات کے ماتھے پہ چاند تلک کی طرح چمکنے لگے گا تو میں تجھے یاد کروں گا، میرے سیل فون کی جب بھی گھنٹی بجے گی تو میری دھڑکنوں کو تمہاری أواز سنائی دے گی، میں تمہارے نیک خیالات کے محور سے کبھی نکل نہ سکوں گا کیوں کہ تم دریا کی موجوں پہ چلنی والی کشتی کے اس بادبان کی طرح تھے جو تیز ہوائوں اور طوفانوں کا زور اپنے اندر میں سمیٹ کر کشتی اور مسافروں کو پار لگا کر ہی سکوں میں أتا ہے.اور أپ خود کو بھی دھرتی پہ" مسافر ہوں یارو " سمجھتے رہے، ہم اس دنیا کی دلدل میں پھنسے رہے مگر أپ اسکو أنکھوں کے ساتھہ شعور کی نظر سے دیکھتے رہے اور اسی دنیا میں رہ کر صوم و صلوات کی پابندی نیکی اور أخرت کا اجر ڈھونڈتے رہے،
کاش دھرتی پہ ہر انسان خیالات اور عملن ایسا ہی کرنے لگے تو ہمیں ایک دوسرے کی نفرت سے نجأت مل جائے اور معاشرہ ہم سب کے لئے تسلی بخش بن جائے..
بلال !! میرے بھائی ہم سب أپ کے لئے دعاگو ہیں
اللہ رب العزت أپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے..! أمین.
0 تبصرے