نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارت میں ہندوؤں کے مذہبی تہوار کمبھ میلہ کے دوران سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی نوجوان لڑکی مونالیزا بھوسلے ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بار مونالیزا تمام رکاوٹوں اور مخالفت کے باوجود اپنے مسلم بوائے فرینڈ محمد فرمان سے شادی کرنے کے باعث خبروں میں ہے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے صورتحال اس وقت متنازع ہو گئی تھی جب مونالیزا کے گھر والے اسے زبردستی واپس گھر لے جانے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم اس کے باوجود دونوں نے اپنے تعلق کو آگے بڑھاتے ہوئے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق مونالیزا اور محمد فرمان کی پہلی ملاقات سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کے ذریعے ہوئی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں کے درمیان چند ماہ قبل رومانوی تعلق قائم ہوا، لیکن جب مونالیزا کے خاندان کو معلوم ہوا کہ وہ ایک مسلمان نوجوان سے شادی کرنا چاہتی ہے تو انہوں نے سخت مخالفت شروع کر دی۔
مونالیزا بھوسلے کا کہنا ہے کہ اس کے والد اسے زبردستی کسی اور سے شادی کرنے پر مجبور کر رہے تھے، جس کے باعث اس نے اپنی حفاظت کے لیے پولیس سے مدد طلب کی، اس واقعے کے بعد دونوں کی شادی کی خبر سامنے آئی۔
دوسری جانب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد فرمان نے کہا کہ ان کی محبت کی کہانی صرف چھ ماہ پرانی ہے، لیکن انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ایک دوسرے کو دہائیوں سے جانتے ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پیشے کے لحاظ سے اداکار ہیں۔
واضح رہے کہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور سے تعلق رکھنے والی مونالیزا بھوسلے پہلی بار اس وقت مشہور ہوئیں جب مہا کمبھ میلہ کے دوران پریاگ راج میں مالائیں فروخت کرتے ہوئے ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ ویڈیوز تیزی سے وائرل ہونے کے بعد وہ انٹرنیٹ سنسیشن بن گئیں اور بعد ازاں انہیں فلموں میں کام کے مواقع بھی ملے۔
0 تبصرے