اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیرِ دفاع Khawaja Asif نے صہیونیت کو انسانیت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر جنگ مسلط کی گئی ہے اور اس کا مقصد اسرائیلی اثر و رسوخ کو پاکستان کی سرحدوں تک لانا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اسرائیل کے قیام سے لے کر آج تک اسلامی دنیا پر آنے والی ہر بڑی آفت کے پیچھے صہیونی نظریہ کارفرما رہا ہے۔ ان کے مطابق صہیونیت گزشتہ ایک صدی سے عالمی معاشی نظام پر اثر انداز رہی ہے اور بڑی طاقتیں بھی اس کے زیرِ اثر ہیں۔
وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس کی مسلح افواج کی صلاحیت کو دنیا تسلیم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی دھماکوں کے ذریعے دنیا کو واضح پیغام دیا گیا تھا کہ پاکستان دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر جنگ مسلط کی گئی ہے اور ایک ایجنڈے کے تحت اسرائیلی اثر کو پاکستانی سرحدوں تک وسعت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے بقول افغانستان، اسرائیل اور بھارت کے درمیان کسی مشترکہ پاکستان مخالف ایجنڈے کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا، اس لیے قوم کو سازشوں کو سمجھنا ہوگا۔
بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے اسرائیلی وزیرِاعظم Benjamin Netanyahu پر الزام عائد کیا کہ ایران پر حملہ کر کے وہ غزہ سے عالمی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا کی توجہ ایران کی جانب مبذول ہونے سے نیتن یاہو کو غزہ اور مغربی کنارے میں کارروائیوں کا موقع مل گیا ہے۔
خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ نیتن یاہو کے ذاتی اور “شیطانی مقاصد” نے فلسطین اور پورے مشرقِ وسطیٰ کو انسانی تاریخ کے بڑے المیوں میں دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے اسلامی دنیا میں اتحاد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے دعا کی کہ فلسطین آزاد ہو اور پاکستان محفوظ رہے۔
0 تبصرے