کراچی (رپورٹر) سندھ میں خواتین کے بڑھتے ہوئے قتل، تذلیل، توہین، جنسی اور جسمانی تشدد اور عورت دشمن رویوں کے خلاف نوجوانوں کی تنظیم "آلٹرنیٹ" کی اپیل پر گزشتہ روز کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
مظاہرے کی قیادت ناصر منصور، کامریڈ زہرہ، اصغر دشتی، احسن محمود ایڈووکیٹ، کامریڈ اقبال ابڑو، کامریڈ رابیل ابڑو، اقصیٰ کنول، عاقب حسین، بلاول شاہ، نورالدین ایڈووکیٹ، مہرالنساء، شہزاد مغل اور دیگر نے کی۔
اس موقع پر مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ خواتین کے خلاف تمام امتیازی قوانین ختم کیے جائیں اور ایسے تمام قوانین منسوخ کیے جائیں جو اس نظام کو تحفظ دیتے ہیں۔ عورت دشمن جاگیردارانہ اور قبائلی نظام کا خاتمہ کیا جائے، کاروکاری اور غیرت کے نام پر قتل میں ملوث عناصر کو سخت سے سخت سزائیں دی جائیں اور متاثرہ خواتین کو انصاف فراہم کیا جائے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ سندھ کی بیٹیوں کو تحفظ دیا جائے اور زندگی کے ہر شعبے میں ان کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔ ہندو لڑکیوں کی جبری مذہب تبدیلی اور جبری شادیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے اور ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ خواتین، لڑکیوں اور خواجہ سرا افراد کے خلاف تذلیل، جنسی اور جسمانی تشدد میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دی جائیں۔
مقررین کا کہنا تھا کہ پورے ملک، خاص طور پر سندھ میں، خواتین کے خلاف تشدد اور قتل کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ عورت دشمن جاگیردارانہ اور قبائلی سوچیں اور روایات پورے معاشرے پر حاوی ہو چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کو اس کے انسان دوست تہذیبی اور ثقافتی ورثے سے محروم کیا جا رہا ہے، جس کی بڑی وجہ جاگیردارانہ اور قبائلی نظام ہے، جو معاشرے کے ہر شعبے میں گہرائی تک سرایت کر چکا ہے۔
مقررین کے مطابق اس صورتحال سے نجات کا واحد راستہ جاگیردارانہ اور قبائلی نظام کے خاتمے سے جڑا ہوا ہے، جس کے لیے کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں، خواتین اور دیگر محروم طبقات کو متحد ہو کر ایک متبادل سیاسی قوت بننا ہوگا۔
0 تبصرے