کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان ایگریکلچر اینڈ ہارٹیکلچر فورم (PAHF) کے وائس پریذیڈینٹ جمشید بشیر نے موجودہ معاشی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ جامع معاشی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے تا کہ محفوظ طریقے سے سرمایہ کار خلیجی ممالک سے اپنا سرمایہ پاکستان منتقل کر سکیں انہوں نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے فوری اقدامات کرے تا کہ خطیر سرمایہ پاکستان میں واپس لایا جا سکے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد مل سکے جمشید بشیر نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں دنیا کے بیشتر ممالک میں سبزیاں اور پھل پاکستان سے ایکسپورٹ کی جاتی ہیں اپنے بہترین معیار کی وجہ سے پاکستانی زراعت سے منسلک اشیاء کی بے حد مانگ ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ زرعی شعبے کی بہتری کے لیے جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور کسانوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دے تا کہ پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے اس کے ساتھ ساتھ پانی کے موثر استعمال، معیاری بیجوں کی فراہمی اور کھاد و ادویات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے تا کہ کسان بہتر نتائج حاصل کر سکیں اور ملکی معیشت مضبوط ہو جمشید بشیر نے کہا کہ برآمدات میں اضافے کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنا اور موجودہ تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اگر حکومت پالیسیوں میں تسلسل اور شفافیت کو یقینی بنائے تو نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان عالمی منڈی میں ایک مضبوط معاشی قوت کے طور پر ابھر سکتا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کو نجی شعبے کے ساتھ مل کر ایسی پالیسی تشکیل دینی چاہیے جو کاروباری ماحول کو سازگار بنائے اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کرے ون ونڈو آپریشن، ٹیکس میں آسانیاں اور شفاف قوانین کے ذریعے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے، جس سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ملک کی مجموعی معاشی ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔
0 تبصرے