نیو یارک (ویب ڈیسک) اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود گزشتہ تین ماہ کے دوران غزہ میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 100 بچے شہید ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کے مطابق شہید ہونے والے بچوں میں 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں شامل ہیں۔
یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود روزانہ اوسطاً ایک بچہ مارا جا رہا ہے۔
یونیسیف کے مطابق فضائی حملوں، ڈرون حملوں، ٹینکوں کی گولہ باری اور براہِ راست فائرنگ کے نتیجے میں بچے شہید ہوئے۔
ترجمان نے کہا کہ اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، ایسی جنگ بندی جو بچوں کی جانیں نہ بچا سکے، ناکافی ہے۔
ادھر غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے دوران بچوں کی شہادتوں کی تعداد 165 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ مجموعی طور پر 442 افراد شہید ہو چکے ہیں۔
0 تبصرے