ان کی شخصیت ہمہ صفت اور خدمات ہمہ جہت اور مثالی ہیں،43 ویں سالانہ عرس کے اجتماع سے علمائے کرام کا خطاب
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت ِ اہلِ سنّت کے بانی خطیب ِ اعظم حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑویؒ کا 43 واں سالانہ دو روزہ مرکزی عرس مبارک جامع مسجد گُل زارِ حبیب، گلستانِ اوکاڑوی (سولجر بازار) میں حسب ِ سابق ماہِ رجب کی تیسری جمعرات و جمعہ کو مولانا اوکاڑوی اکادمی (العالمی) اور گُل زارِ حبیب ٹرسٹ کے زیر اہتمام والہانہ عقیدت و محبت سے منایا گیا۔ اس موقع پر کتابی سلسلہ ”الخطیب“ کا سالانہ یادگاری مجلہ شائع ہوا۔ ملک اور بیرونِ ملک سے علما و مشائخ اور عقیدت مند حضرات و خواتین کی بڑی تعداد نے عرس مبارک کی تقریبات میں شرکت کی۔ متعدد تنظیموں اور حلقوں کی طرف سے حضرت خطیب ِ اعظم کے مرقد مبارک پر چادر پوشی و گُل پاشی کی گئی اور دنیا بھر میں سالانہ عالمی یومِ خطیب ِ اعظم کے اجتماع ہوے۔ علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی کے اعلان کے مطابق تمام اہلِ عقیدت نے مزار شریف پر کپڑوں کی زیادہ چادریں چڑھانے کے بجاے حضرت خطیب ِ اعظم کے ایصالِ ثواب کے لیے متعدد مستحق افراد کو پوشاکیں تقسیم کیں۔ 135 سالہ مرید اعلی حضرت سید نذر حسین شاہ،پیر بیرسٹر سید وسیم الحسن شاہ نقوی حافظ آبادی، مولانا سید عظمت علی شاہ ہمدانی، مولانا غلام غوث گولڑوی، مفتی محمد نوید عباسی، مفتی محمد نعیم، مولانا عاشق حسین سعیدی، مولانا زبیر ہزاروی، صوفی محمد حسین لاکھانی، انجینئر سید حماد حسین اور دیگر کے علاوہ خطیب ِ ملت علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطبات میں کہا کہ وہ ہستیاں جو اللّٰہ تعالی کی بیش بہا نعمت اور انتخاب ہوتی ہیں حضرت خطیب ِ اعظم مولانا محمد شفیع اوکاڑوی ان میں نمایاں تھے اور بلاشبہ عطائے رسول تھے۔ انہیں قدرت نے جو خصوصیات عطا کی تھیں ان کی بدولت انہیں قلوب و اذہان کی تسخیر کی قوت و صلاحیت بھی ملی تھی وہ ہر بارگاہ، درس گاہ اور خانقاہ میں محبوب و محترم تھے، وہ سچے عاشقِ رسول تھے اور رسولِ کریم ﷺ کی بارگاہ میں مقبول و محبوب تھے اورقرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی جیتی جاگتی تصویر تھے اسی لیے سمتوں میں انہیں پذیرائی ملی۔ الیکٹرانک میڈیا اور وسائل کی بہتات کے بغیر ان کی اَن تھک جدوجہد کی وجہ سے ان کی شہرت و مقبولیت مثالی رہی جو آج بھی قائم و دائم ہے۔ان کی ذات کثیر الصفات اور خدمات کثیر الجہات اور مثالی ہیں۔ جماعت ِ اہلِ سنّت اور دعوت اسلامی جیسی تنظیمیں انہی کا فیضان ہیں۔ وہ وسعت ِ قلبی رکھنے والے میر کاروانِ اہل سنّت تھے۔ تحریک قیام پاکستان، تحریک ِ تحفظ عقیدہ ختم نبوت، تحریک ِ دفاع پاکستان، تحریک ِ نفاذ نظام مصطفی اور تحریک اتحاد بین المسلمین کے وہ قافلہ سالار اور مثالی رہ نما تھے۔ ان کی زندگی مسلسل جدوجہد اور دین و ملت کی خدمت میں گزری۔ وہ ولی کامل اور مردِ حق تھے۔ اہلِ بیت و اصحاب نبوی کے حوالے سے حقیقی، صحیح اور معتدل موقف رکھتے تھے انہوں نے جرأت و ہمت اور بے باکی کے ساتھ تادمِ آخر صحیح عقائد ہی کی ترجمانی کی۔ انہوں نے اہل سنّت کو متحد رکھا۔ عشقِ رسول اور ناموسِ رسالت کے باب میں وہ عزیمت و استقامت کے ساتھ مردِ میداں اور قابلِ تقلید امیرِ کارواں رہے وہ عہد ساز اور عہد آفرین ہستی تھے۔ ان کی خوبیوں کی وجہ سے زمانہ ان سے حسد کرتا تھا ان کے اساتذہ و مشائخ کو بھی ان پر ناز تھا اور اہلِ سنّت و جماعت کا وہ اعتبار و افتخار تھے۔ تجدید و احیاے دین کے لیے ان کے مساعی جمیلہ ناقابل فراموش ہیں۔ تحفظ ِ عقائد اور اصلاح اعمال کے لیے انہوں نے کارہاے نمایاں انجام دیے۔ ان کے صدق و اخلاص اور جرأت و استقامت نے انہیں نمایاں رکھا۔وہ اپنی طرز خطابت کے موجد و امام تھے اور ان کی طرزِ خطابت اتنی مقبول ہوئی کہ جس کسی نے اسے اپنایا وہ بھی کامیاب ہوا۔ اقلیمِ خطابت کے تاج دار ہونے کے ساتھ وہ مثالی محقق و مصنف بھی تھے، ان کی ہر تصنیف کام یاب اور مقبول ہوئی۔ ملک و ملت کے لیے وہ قابلِ قدر راہ نما تھے اور انہوں نے وطنِ عزیز اور ملت اسلامیہ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی شاہ کار تصنیف ذکرِ جمیل ملت پر ان کا احسان ہے۔ ان کی شہرت و مقبولیت آج بھی مثالی ہے اور یہ ان کی سچی اور اچھی شخصیت ہی کا فیضان ہے کہ انہیں علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی جیسا فرزند ملا جو آج سمتوں میں اہلِ سنّت کے غیر متنازع اور پسندیدہ قابل فخر رہنما ہیں اور برسوں سے تحفظِ عقیدہ ختم نبوت کے لیے انہوں نے جو قائدانہ اور مثالی کردار کا مظاہرہ کیا وہ یادگار رہے گا۔ دنیا بھر سے لاکھوں اہلِ عقیدت انٹرنیٹ کے ذریعے عرس شریف کی تقریبات سے وابستہ رہے۔ مجلسِ خواتین گُل زارِ حبیب کی طرف سے آخر میں پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں۔ بغداد شریف، داتا دربار، اجمیر شریف اور متعدد درگاہوں میں حضرت خطیب ِ اعظم کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی فاتحہ خوانی کروائی گئی۔ علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی نے اختتامی دعا کی اور اعلان کیا کہ 44 واں سالانہ عرس مبارک 31 دسمبر 2026ء اور یکم جنوری 2027ء کو ہوگا۔
0 تبصرے