واشنگٹن (ویب ڈیسک) ایران میں جاری حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے پیشِ نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے امکان پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کو فوجی آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، جبکہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث اسرائیل نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر فوجی حملوں سے متعلق بریفنگ دی گئی، جس کے بعد تہران میں غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے امکان پر سنجیدگی سے سوچا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ابھی ایران پر حملوں کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم وہ فوجی کارروائی کی اجازت دینے پر غور کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران میں امریکا کی ممکنہ مداخلت کے باعث اسرائیل نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی اداروں نے احتیاطی اقدامات سخت کر دیے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ہائی الرٹ کی عملی صورت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں ایران میں ممکنہ امریکی مداخلت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
0 تبصرے