گرین لینڈ پر قبضے کی منصوبہ بندی، امریکہ اور یورپ میں کشیدگی

گرین لینڈ پر قبضے کی منصوبہ بندی، امریکہ اور یورپ میں کشیدگی

اسلام آباد (ابصار عالم) — امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یورپی ممالک، جن میں فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، اسپین، برطانیہ اور ڈنمارک شامل ہیں، نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں امریکہ کو خبردار کیا گیا ہے کہ گرین لینڈ، جو ڈنمارک کا خودمختار علاقہ ہے، پر قبضے کا امریکی ارادہ یورپی سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔ بیان میں زور دیا گیا ہے کہ گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ اس کے رہائشیوں کا حق ہے اور کسی بھی ملک کو اس پر غیر قانونی قبضہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ٹرمپ کے بیانات اور وارننگز، جن میں میکسیکو، کولمبیا اور کیوبا شامل ہیں، کے ساتھ گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش نے یورپ میں تشویش بڑھا دی ہے۔ یورپی ممالک نے خاص طور پر آرکٹک علاقوں کی سیکیورٹی اور نیٹو کی ذمہ داریوں کو یاد دلایا ہے، اور امریکہ کو یہ بھی یاد دلایا گیا کہ نیٹو ایک مشترکہ ادارہ ہے جس میں ہر ملک کو دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا لازمی ہے۔ دوسری جانب ایران میں غیر معمولی اور پراسرار سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں۔ مختلف شہروں میں رات کے وقت ٹرمپ کے پوسٹرز لگائے گئے ہیں جن پر لکھا ہے: "ٹرمپ صاحب، ایران آپ کا انتظار کر رہا ہے۔ آپ کب آئیں گے؟" ایسے پوسٹرز اور اسٹیکرز کے بعد ایران میں ہنگامے اور مظاہرے زور پکڑ رہے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وینزویلا میں امریکی کارروائیوں کے بعد امریکہ نے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر کے اپنی کمپنیوں کو تیل بیچنے کی اجازت دی تھی۔ عالمی سیاسی منظرنامے میں پاکستان بھی سرگرم رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل احمد شریف نے ہنگامی پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان نے بھارت اور افغانستان دونوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر وہ ملک پر حملہ کرنے کی کوشش کریں تو پاکستان مکمل طور پر جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ گزشتہ سال پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل کی گئیں۔ 2025 میں 16 اہم دہشت گرد ہلاک کیے گئے اور ہزاروں دیگر کو نشانہ بنایا گیا۔ بلوچستان میں انتظامیہ اور پولیس کے نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے، جہاں تقریباً 87 فیصد علاقوں میں نیا قانون اور پولیس نظام قائم کیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں بھی دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، لیکن سیاسی اختلافات کی وجہ سے کامیابیاں کم ہیں۔ ٹرمپ اور یورپ کے درمیان بڑھتی کشیدگی، ایران میں پراسرار پوسٹرز اور پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف مضبوط کارروائیاں عالمی اور علاقائی سیاسی ماحول کو نازک اور حساس بنا رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں ان معاملات کا کیا رخ ہوگا، اس پر عالمی برادری کی کارروائیاں اثر انداز ہوں گی۔