بدين: نوجوان کیلاش کولہی کے قاتل گرفتار نہ ہونے کے خلاف ہزاروں افراد کا دھرنا، ایس ایس پی بدین اور تلهار پولیس کے خلاف نعرے بازی

اکر کيلاش کا قاتل گرفتار نہیں ہوگا، احتجاج کا دائرہ پورے سندھ تک بڑھایا جائے گا۔مظاہرین

بدين: نوجوان کیلاش کولہی کے قاتل گرفتار نہ ہونے کے خلاف ہزاروں افراد کا دھرنا،  ایس ایس پی بدین اور تلهار پولیس کے خلاف نعرے بازی

بدین ضلع کے شہر پیرو لاشاری کے قریب گاؤں داھو کولہی میں چار دن قبل قتل ہونے والے نوجوان کیلاش کولہی کے قاتلوں کی گرفتاری نہ ہونے کے خلاف پاکستان کولہی اتحاد کی جانب سے حیدرآباد، بدین اور کراچی روڈ کو پیر چوک پر ہزاروں افراد نے دھرنا دے کر مکمل بند کر دیا ہے۔ سڑکوں کے دونوں اطراف سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔ 14 گھنٹوں سے جاری دھرنے کے باعث کئی مسافر گاڑیوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور متاثرین قاتل کی گرفتاری کے لیے سخت نعرے بازی کر رہے ہیں، قتل ہونے والے نوجوان کیلاش کے والد چیتن کولہی، والدہ میران کولہن، اہلیہ لکھی بائی اور معصوم بچے، سینکڑوں خواتین سمیت ہزاروں افراد دھرنے میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ کولہی اتحاد کے رہنماؤں سوڈھی کولہی، ایڈووکیٹ رام کولہی، کولہی اتحاد سندھ کے صدر پہلاج کولہی، لالچند کولہی، ڈاکٹر رام چند کولہی، رائے چند کولہی اور قوم پرست رہنماؤں نواز شاہ بھاڈائی، ایس یو پی رہنما امیر آزاد پنھور، سندھیانی تحریک کی شازیہ احمدانی، نامور وکلاء اشرف سموں، طارق آفتاب ملاح، سجاد لاشاری، نامور شخصیت منظور سولنگی، نامور اداکار حيدر قادری، منظور شیخ، ڈاکٹر عزیز میمن، جی ڈی اے کے محمد حسین شاہانی سمیت مختلف برادریوں کے بڑی تعداد میں افراد اور کولہی برادری کے مرد و خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ دھرنے میں مظاہرین کی جانب سے ایس ایس پی بدین اور تلهار پولیس کے خلاف سخت نعرے بازی کی گئی۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ بے گناہ قتل کیے گئے کیلاش کولہی کے قاتل سرفراز نظامانی اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی بدین قمر رضا جسکانی نے چار دن قبل قاتل کی گرفتاری کی یقین دہانی کرائی تھی، اس کے باوجود قاتل گرفتار نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک قاتل گرفتار نہیں ہوگا، احتجاج کا دائرہ پورے سندھ تک بڑھایا جائے گا۔