برطانیہ میں امریکی فوجی طیاروں کی تعیناتی، عالمی کشیدگی بڑھنے کے خدشات

بھاری اسلحے سے لیس امریکی فوجی طیاروں کی برطانیہ آمد کو ممکنہ آئندہ فوجی کارروائیوں کی تیاری قرار دیا جا رہا ہے۔

برطانیہ میں امریکی فوجی طیاروں کی تعیناتی، عالمی کشیدگی بڑھنے کے خدشات

برطانوی میڈیا کے مطابق امریکہ کے جدید اور بھاری ہتھیاروں سے لیس فوجی طیاروں کی بڑی تعداد حالیہ دنوں میں برطانیہ پہنچ گئی ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق کم از کم دس C-17 گلوب ماسٹر فوجی ٹرانسپورٹ طیارے اور دو AC-130J گھوسٹ رائیڈر گن شپ طیارے رائل ایئر فورس کے مختلف اڈوں پر تعینات کیے گئے ہیں۔ یہ طیارے بھاری اسلحہ، فوجی سازوسامان اور فوجی دستوں کی منتقلی کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت وینزویلا میں امریکی اسپیشل فورسز کی مبینہ کارروائی کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے بعد امریکہ نے برطانیہ میں اپنی فضائی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ دفاعی مبصرین کے مطابق ان اقدامات کو ممکنہ مستقبل کی فوجی سرگرمیوں یا آپریشنز کی تیاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق گلوسیسٹرشائر میں رائل ایئر فورس فیئر فورڈ اور سفوک میں آر اے ایف ملڈن ہال پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ یہ دونوں اڈے رائل ایئر فورس اور امریکی افواج مشترکہ طور پر استعمال کرتی ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں امریکی فوجی طیاروں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو مشرقِ وسطیٰ یا دیگر حساس خطوں میں ممکنہ کارروائیوں سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ دوسری جانب برطانوی وزارتِ دفاع نے امریکی فوجی سرگرمیوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عمومی طور پر غیر ملکی افواج کی نقل و حرکت پر کوئی بیان جاری نہیں کرتی۔ ماہرین کے مطابق عالمی حالات کے تناظر میں یہ پیش رفت بین الاقوامی سیاست میں ایک اہم اشارہ سمجھی جا رہی ہے، تاہم صورتحال کی مکمل نوعیت آئندہ دنوں میں مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔