سندھ حکومت کا تاریخ ساز اقدام: طلاق، پیدائش، موت، شادی کی مفت رجسٹریشن کے لیے موبائل ایپ متعارف

سندھ حکومت نے شہریوں کو موت، شادی اور طلاق کی رجسٹریشن کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک جدید، کاغذ سے آزاد اور ٹیکنالوجی پر مبنی "سیول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم" (CRMS) موبائل ایپ لانچ کر دی۔

سندھ حکومت کا تاریخ ساز اقدام: طلاق، پیدائش، موت، شادی کی مفت رجسٹریشن کے لیے موبائل ایپ متعارف

کراچی: سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے سیول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم (CRMS) موبائل ایپ کا آغاز کیا، جس کا مقصد شہریوں کو پیداوار، موت، شادی اور طلاق کی رجسٹریشن کی خدمات براہ راست ان کے دروازے تک پہنچانا ہے۔ یہ سسٹم ایک کاغذ سے آزاد، ڈیجیٹل اور سہل طریقہ کار پر مبنی ہے۔ ای-سی آر وی ایس (E-CRVS) سسٹم کا بجٹ 471.254 ملین روپے ہے، جو سندھ کے 30 اضلاع اور 769 صحت کے مراکز تک پھیلا جائے گا، تاکہ عوامی و نجی اسپتالوں میں 85 فیصد پیدائشوں کا ڈیجیٹل رجسٹریشن ممکن بنایا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ "یہ قدم سندھ حکومت کے ڈیجیٹل سندھ کی جانب جاری منتقلی کے عمل میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔" انہوں نے مزید کہا کہ CRMS موبائل ایپ شفافیت، کارکردگی، رسائی اور عوامی اعتماد کو فروغ دے گی، جس سے حکومت کے کاموں میں مزید بہتری آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ کابینہ نے فیصلہ کیا تھا کہ پیداوار اور موت کی رجسٹریشن کے لیے تمام نادرا کی فیس حکومت خود برداشت کرے گی تاکہ غریب طبقے کے لیے یہ سہولت مفت ہو سکے۔ نادرا کے ساتھ اس تعاون کے نتیجے میں یہ اصلاحات کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔ یہ موبائل ایپ طویل قطاروں، کاغذی کارروائی اور تاخیر کا خاتمہ کرے گی۔ اس کے ذریعے شہری، خاص طور پر دور دراز یا پسماندہ علاقوں کے لوگ، بغیر کسی سرکاری دفتر کے وزٹ کے اپنے اہم واقعات کی رجسٹریشن کرا سکیں گے۔ اس سسٹم سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو صوبائی ڈیٹا بیس سے جوڑا جائے گا، جس سے حکومت کی منصوبہ بندی کی صلاحیت بہتر ہو گی۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ "اب پیدائش کی رجسٹریشن فوری طور پر کرانا ضروری ہو گا، اور پانچ سال کے اندر ہر بچے کی اسکول کی منصوبہ بندی اسی ڈیٹا پر مبنی ہوگی۔" انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یونین کونسل سطح پر اس اصلاحات کی عمل داری سب سے اہم مرحلہ ہے اور یونین کونسل کے نمائندوں کی کارکردگی کو رجسٹریشن کی شرح کے مطابق جانچا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ یہ سسٹم صحت کے شعبے کے لیے بھی اہم ہے، خاص طور پر امونائزیشن، بیماریوں کی نگرانی، اور مریضوں کی شناخت کے معاملات میں۔ اس ڈیٹا کی مدد سے الیکٹرانک امونائزیشن رجسٹری اور تھیلیسیمیا جیسے بیماریوں کے خلاف ہدفی مداخلتیں ممکن ہوں گی۔ وزیراعلیٰ نے اس پروگرام کے لیے نادرا کے چیئرمین اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور سندھ کے دیگر ڈیجیٹل اقدامات کا ذکر کیا، جن میں ڈومیسائل، سوشل پروٹیکشن سسٹمز، صحت ریکارڈز، لائسنسنگ اور ای-پے منٹس شامل ہیں۔ وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچو ہو نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ یہ سسٹم سندھ کے 769 صحت مراکز میں 85 فیصد پیدائشوں کا ڈیجیٹل رجسٹریشن کرے گا۔