عوام میں جائیں گے، انکی شکایتیں ہیں مگر ہم سے پیار بھی کرتے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ
وزیراعلیٰ سندھ کا اسمبلی سے الوداعی خطاب
کراچی:سید قائم علی شاہ کے بعد خطاب کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ،کوشش ہوگی انکے الفاظ کو آگے لے کر چلوں ۔ اللہ تعالیٰ کا بہت شکر گزار ہوں کہ اس اسمبلی کے پانچ سال پورے کئے ، پانچ سال سے ایک دن پہلے اسمبلی تحلیل کرنے پر معذرت چاہتاہوں۔ اللہ نے توفیق دی کہ اس اسمبلی کو پانچ سال پور کئے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اپنے والدین کی تربیت اور خاندان کی سپورٹ کے باعث اآج میں یہاں پہنچا ہوں۔ اپنی قیادت جناب چیئرمین بلاول بھٹو اور صدر آصف علی زردری کا شکر گذار ہوں انھوں نے ہر قدم پر سپورٹ کیا۔ 2005 میں محترمہ شہید بینظیر بھٹو نے میرے والد کہا تھا کہ کسی بھی فرزند کو الیکشن لڑوائیں ، 2002 سے چار مرتبہ منتخب ہوا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ یہ پانچ سال اتنے آسان نہیں تھے، پانچ سال بہت مشکل ترین گزے کیوں کہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ بزنس کو کیسے چلایا جائے ۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہ اکہ آج ہی گورنر کو سندھ اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس دے دوں گا۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پانچ سال کے دوران رکارڈ قانون سازی اور کام ہوئے ہیں ،اپوزیشن کو اعتراض ہونگے لیکن حکومت ارکان اکثریت میں ہونے کے باعث چاہتے ہیں کہ حکومت کی پالیسی آگے چلے۔ انھوں نے کہا کہ پانچ سال کے دوران کس طریقے سے اس اسمبلی اور حکومت کو چلنے سے روکا گیا جسکی بڑی مثال اسپیکر سندھ اسمبلی خود ہیں جو ابھی تک جیل سے اسمبلی کو چلانے کیلئے آتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کئی اسمبلی ارکان جن پر متعدد کیسز اور ریفرنسز پائے گئے ، ہماری بیوروکریسی سے بدترین مشکلات دیکھے صرف اس لئے کہ صوبہ سندھ کو غیر مستحکم کرنا ہے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا کیا کہ وفاق اور دیگر تین صوبے غیر مستحکم تو ہوئے لیکن سندھ اسمبلی استحکام لے آئی ۔ ایک وقت میں چرچہ چلا تھا کہ وزیراعلیٰ آج نہیں تو پرسوں گرفتار ہوجائیں گے جس پر ہمارے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ تو کیا اگر جیل میں ہوگا وزیراعلیٰ تو کیا ؟ ہمارا وزیراعلیٰ وہاں سے حکومت چلائیں گے اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے ان لوگوں کو شکست دی۔ ہماری حکومت پر بڑے بڑے امتحانات آئے۔ ا بھی وزیر اطلاعات نے کہا تھا کہ جان ہے تو جہاں ہے جو میں خود بھی یہی بات کرتا تھا لیکن اس کے برعکس دیگر کا کہنا تھا کہ بھائی !جہاں ہے تو جان ہے ، لوگ مر جاتے ہیں تو مر جائیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ انکا خیال تھا کہ معیشت چلتی رہنی چاہئے اور میری یہی لڑائی تھی ان سے کہ کورونا کے باعث تمام کاروبارو شٹ ڈاؤن کئے ، دکانیں بند کی اور ٹرانسپورٹ بند کی تھی ۔ اور اس سے پہلے وہ میری بات نہیں مان رہے تھے، لیکن کچھ دوستوں نے مدد کی اور انکو عقل آئی جسکے بعد کورونا میں پاکستان نے بہتر کارکردگی دکھائی۔ سندھ نے رکارڈ وقت (ڈیڑھ ماہ)میں کورونا کے دوران مریضوں کیلئے اسٹیٹ آف دی آرٹ اسپتال قائم کیا۔ کورونا سے بچنے کے بعد 2020 کے سیلاب نے ہمارے سندھ کے لیفٹ بینک کینال کو برباد کیا۔ اس وقت کے وزیراعظم ان علائقوں کا دورہ تک نہیں کیا ، کراچی تک آئے اور چلے گئے۔ 2022 کے سیلاب میں پورے سندھ کو متاثر کیا جس سے 13 ملین آبادی متاثر ہوئے اور 21 لاکھ گھر تباہ ہوئے ۔ تین ایکڑ سے زائد فصل تباہ ہوئی۔ 20 ہزار سے زائد اسکول تباہ ہوئے۔ ایسی حالت تھی کہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس آفت سے کیسے نکلا جائے ۔ چیئرمین بلاول بھٹو نے تمامدورے منسوخ کرکے سندھ بھر کا دورا کیا اور صدر اآصف علی زرداری مجھ سمیت ہر ایم پی اے پوچھتے رہے کہ وہ فیلڈ میں ہیں یا نہیں۔ کوشش کی ہم سب نے مل کر اس آفت سے نمٹے اور پیپلز پارٹی وزراء ، اسمبلی ارکان ،ورکرز اور انتظامیہ ہر ایک سیلاب متاثرین کے پاس پہنچے اور مدد کی ۔ 2022 میں 7 گنا زیادہ بارشیں ہوئی جو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہم نے وقت پر 90 فیصد علائقوں سے پانی نکلا اور گندم کی رکارڈ فصل ہوئی۔ عالمی بینک ، ایشین بینک اور اسلامی بینک سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز اور پارٹنرز نے ہماری مدد کی ، موجودہ وفاقی حکومت نے بھرپور مدد کی۔ اور وزیراعظم ہر آئے دن کہتے تھے کہ سندھ کا دورہ کرنا ہے جس کے بعد انھوں نے 7 سے 8 دورے کے۔ صدر آصف علی زردری کا بنیا ہوا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے در در جاکر سیلاب متاثرین کی مدد کی ۔ محکمہ تعلیم کی ایک اسکیم کیلئے وفاق سے 12 لاکھ روپے منطور کروائی ہے جس میں سندھ حکومت کا بھی حصہ ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو نے دورے کے دوران مجھ سے کہا کہ وزیراعلیٰ صاحب کھلے اآسمان تلے خیموں میں بیٹھے عوام مجھے کہتی ہے کہ گھر بناکر دیں جو بھی کریں انکے لئے کچھ کرنا ہے ۔ چیئرمین صاحب نے کہا کہ میں کچھ نہیں جانتا یہ کام کرنا ہے اس سے پہلے کسی حکومت نے یہ نہیں سوچا کہ عوام کو گھر بناکر دئے جائیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو جنیو میں کانفرنس میں گئے ہماری مدد ہوئی جس کے بعد ہم سندھ میں گھر بناکر سیلاب متاثرین کو نہ صرف دے رہے ہیں بلکہ انکو گھر کا مالک بھی بنا رہے ہیں۔ ایک سروے کرایا گیا 1268688 گھر بنانے ہیں جس میں سے 626925 گھر منظور ہوچکے ہیں اور گھر بن رہے ہیں۔ سندھ حکومت نے ان تمام 20 لاکھ گھروں کے خواتین مالکان کے نام پر بینک اکاؤنٹ کھولے جارہے ہیں جس میں سے ابھی تک 136404 بینک اکاؤنٹ کھول چکے ہیں جس سے متاثرین کو پیسے دئے جارہے ہیں۔ انکے ساتھ ساتھ ہم ان تمام سیلاب متاثرین کو گھر بنانے کا طریقہ بھی بتارہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے صحت کیلئے کافی کام کیا۔ کراچی میں دو اسپتالیں قائم کی ہیں۔ ایس آئی سی ایچ کورنگی اسپتال میں جو سہولیات دی جارہی ہیں وہ کراچی میں موجود آج پانچ بڑے اسپتالوں سے کئی زیادہ ہیں۔ کراچی سے شروع کئے گئے چائلد لائیف پروگرام منصوبے پر 2018 سے کام چل رہا ہے جس کا مقصد کسی بھی بچہ مریض کو کسی بھی اسپتال سے آدھے گھنٹے کی دوری سے زیادہ دور نہ ہو۔ ابھی یونیسف کے سندھ سے متعلق سروے میں بتایا گیا کہ بچوں کی شرح اموات میں کافی حد تک کمی آگئی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اساتذہ کی بھرتی کی گئیں تاکہ اسکولز کھول سکیں۔ سردارہ شاہ نے مجھے یقین دلایا تھا کہ ایک بھی اسکول بند نہیں ہوگا۔ میں وزیر تعلیم کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انھوں نے میوزک ٹیچرز بھرتی کئے ہیں ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صدر زرداری کے وژن کے مطابق زراعت سے متعلق پانی کی کمی پر کام کیا گیا ، سندھ کے ہر شہر میں آج مطالبہ کیا جارہا ہے کہ لائننگ کرائی جائے۔ سندھ میں 110 اسمال ڈیمز بنائے گئے ہیں جس کے بعد معیشت میں بہتری آئی ہے۔2019 میں چیئرمین بلاول بھٹو نے تھر میں پہلا تھر کول پلانٹ کا افتتاح کیا تھا ور آج 3240 میگاواٹ بجلی تھر کے کوئلے سے پیدا کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں رکارڈ کام ہوئے پیپلز بس سروس اور پنک بس سروسز کا آغاز ہمارے کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے ترقیاتی کام کرائے ۔ کورنگی میں دو برجز بنائے ، لیاری میں کھیلوں کے میدان بنائے ۔ کورنگی میں فشر میں چورنگی بنائی ، شیرپاؤ کالونی میں منصوبہ بنایا ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج اپوزیشن کی بینچز سے کسی نے کہا کہ اس انتظامیہ کے ساتھ الیکشن طئے نہیں ہوسکتے۔ میں کہتا ہوں انکو کہ وہ اپنے سینئر سے پوچھ لیں کہ اس صوبے کے انتظامی ہیڈ کو ہم آپکی جماعت سے مشاورت کے بعد لگائے ہیں۔ میں کہنا چاہتا ہوں اس جماعت کو کہ اس بار الیکشن نہ لڑنے غلطی مت کیجئے گا ، فیلڈ اوپن نہ چھوڑدیں کسی کیلئے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ہم مقابلے میں ہونگے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں نہ صرف کراچی بلکہ سندھ بھر سے ہم نے بڑی اکثریت کے ساتھ الیکشن جیتے ہیں اور آج انکو دو تین ماہ کیلئے حوالے کرکے جارہے ہیں ، واپس اآئیں گے اور دوبارہ یہیں سے سفر کا آغاز کریں گے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ملازمتوں اور روزگار کے دشمن آج عدالت چلے گئے مجھے ،سندھ کے نوجوانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ تمام ملازمتیں آپ کیلئے تیار ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ عوام میں جائیں گے، انکی شکایتیں ہوتی ہیں مگر وہ ہم سے پیار بھی کرتے ہیں ، جنھیں پارٹی ٹکٹ دے گی وہ الیکشن کے بعد دوبارہ اسمبلی میں آئیں گے۔ ہم نے بلدیاتی اختیارات نچلی سطح تک منتل کئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کسی صوبے میں اتنے کام ، ترقی، قانون سازی نہیں ہوئے جتنے سندھ میں ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ فردوش شمیم نقوی، حلیم عادل کے ساتھ بھی بہتر کام کرنے کی کوشش کی۔ اپوزیشن اراکین کیلئے نیک تمناؤں کا خواہش مند ہوں۔ انھوں نے اسپیکر اسمبلی کا شکریہ ادا کیا کہ تمام ممبران کو خوش رکھا۔