آثار قدیمہ منصورہ برہمن آباد کو ورلڈ ہیریٹیج میں شامل کرانے پر کام شروع ھوگیا 2027 کی شروعات میں دوبارہ کھدائی شروع ہوگی
سانگھڑ (حسنین عاشق ساند) سنده کے علاقے سانگھڑ کے نزدیک موجود 3 ھزار سال سے زائد تاریخ رکھنے والے سندھ کے تاریخی آثارِ قدیمہ منصورہ برہمن آباد کو ورلڈ ہیریٹیج فہرست میں شامل کرنے کے حوالے سے سندھ محکمہ آثارِ قدیمہ اور اطالوی آثارِ قدیمہ مشن کے اشتراک سے دوبارہ کھدائی اور تحقیقی کام شروع کرنے کی تیاریاں شروع ھوگئی ہیں، قدیم مقام پر باقاعدہ کھدائی 2027 کی شروعات میں ھوگی۔ محکمہ آثارِ قدیمہ و نوادرات سندھ کی کھدائی ٹیم کی سربراہ زاہدہ قادری اور اطالوی مشن کے ڈاکٹر الیساندرو تلیا نے "اے پی پی" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ منصورہ میں طویل المدتی آثارِ قدیمہ منصوبے کے تحت قدیم شہر کی تاریخ، تہذیبی ادوار اور مختلف تہوں کا سائنسی بنیادوں پر مطالعہ کیا جائے گا۔ منصوبہ آئی ایس ایم ای او کے پروفیسر ڈاکٹر لوکا ماریا اولیویاری کی نگرانی میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر الیساندرو تلیا نے کہا کہ منصورہ سندھ ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے اہم تاریخی مقامات میں شامل ہے، اس لیے یہاں تحقیق اور کھدائی کو ایک طویل المدتی منصوبے کے طور پر آگے بڑھانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کا مقصد صرف آثار دریافت کرنا نہیں بلکہ قدیم شہر کے مختلف ادوار، شہری ساخت اور تہذیبی تسلسل کو سائنسی طریقے سے سمجھنا اور محفوظ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصورہ کے تحفظ کے لیے مقامی انتظامیہ اور آبادی کا تعاون بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ سائٹ کے اطراف سڑکوں کی تعمیر، زرعی سرگرمیوں، تجاوزات اور جانوروں کی آمدورفت سے قدیم آثار کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق اگر تاریخی مقام کو مسلسل نقصان پہنچتا رہا تو بین الاقوامی ماہرین اور تحقیقی مشنز کے لیے یہاں طویل المدتی کام جاری رکھنا مشکل ہوگا۔ ڈاکٹر تلیا نے مقامی انتظامیہ اور شہریوں سے اپیل کی کہ آثارِ قدیمہ کے تحفظ کو اجتماعی ذمہ داری سمجھتے ہوئے سائٹ کے اندر اور اطراف ایسی سرگرمیوں سے گریز کیا جائے جن سے قدیم باقیات متاثر ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اطالوی مشن سندھ محکمہ آثارِ قدیمہ کے ساتھ مل کر منصورہ کی تحقیق اور تحفظ کے لیے کام کرے گا۔ زاہدہ قادری نے بتایا کہ اطالوی آثارِ قدیمہ مشن گزشتہ تقریباً 15 سال سے بھنبھور میں کام کر رہا ہے اور اب اپنے تحقیقی منصوبے کو منصورہ تک وسعت دے رہا ہے۔ منصورہ میں ابتدائی سروے اور نقشہ بندی کے دوران سائٹ کے مختلف حصوں میں زرعی سرگرمیوں، سڑکوں اور دیگر انسانی سرگرمیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائٹ کی مکمل نقشہ بندی اور تہہ در تہہ تاریخی ساخت کا مطالعہ اس منصوبے کا اہم حصہ ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ مختلف ادوار میں یہاں کس نوعیت کی آبادیاں قائم رہیں اور قدیم شہر کے نیچے موجود تہذیبی آثار کس دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ زاہدہ قادری نے بھنبھور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے تاریخی مقام کو نقصان پہنچانے والی بعض سرگرمیوں کو روکا گیا، جس سے سائٹ کے تحفظ اور مزید تحقیقی کام میں مدد ملی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ منصورہ میں بھی ضلعی انتظامیہ، مقامی حکومت، یونین کونسل اور مقامی آبادی محکمہ آثارِ قدیمہ سے بھرپور تعاون کرے گی۔ںتقریباً 500 ایکڑ رقبے پر پھیلا منصورہ کا تاریخی مقام تقریباً 7 کلومیٹر طویل قدیم فصیل کے آثار رکھتا ہے۔ منصورہ اموی اور عباسی ادوار میں خطے کا اہم مرکز رہا، جبکہ اس سے قبل بھی دریائے سندھ کے کنارے ایک اہم بندرگاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ ماضی میں وفاقی محکمہ آثارِ قدیمہ کی جانب سے، خصوصاً 1960 کی دہائی میں ایف اے خان کی نگرانی میں ہونے والی کھدائی کے دوران قدیم شہر کے اہم آثار دریافت ہوئے۔ کھدائی سے ملنے والے بڑے کانسی کے دروازوں کے دستے کراچی کے قومی عجائب گھر، اسلام آباد میوزیم اور سندھ محکمہ آثارِ قدیمہ کے زیرِ انتظام سائٹ میوزیم میں محفوظ ہیں۔ زاہدہ قادری نے بتایا کہ منصورہ کو عالمی ورثہ فہرست میں شامل کرانے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔ ان کے مطابق عالمی ورثے کا درجہ ملنے سے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوسکتا ہے، جس سے مقامی کاروباری سرگرمیوں اور معاشی مواقع کو فروغ ملے گا۔ پاک اطالوی مشترکہ منصوبے کے تحت منصورہ میں سالانہ بنیادوں پر سروے، تحقیق، دستاویز بندی اور کھدائی کا عمل جاری رکھنے کا منصوبہ ہے۔ منصوبے کا مقصد منصورہ کی قدیم تاریخ اور تہذیبی ورثے کو سائنسی بنیادوں پر دستاویزی شکل دینے کے ساتھ ساتھ تاریخی مقام کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنانا ہے۔ کھدائی ٹیم میں ڈاکٹر الیساندرو تلیا، عابد انصاری، کاشف خان، سائٹ انچارج پیارو خان، سائٹ اٹینڈنٹ ریاض سہتو اور اسسٹنٹ منظور شامل ہیں۔