اتوار، 01 نومبر 2026
بریکنگ

42سال سے ہم دہشتگردی کا شکار ہیں جس نے گھروں کے گھر برباد کر دیئے: سید خورشید شاھ

تازہ ترین 17th Aug 2023 165 مناظر

ڈکٹیٹر جس نے جمھوریت پر شب خون مارا عدالت نے اسے آئین میں ترامیم کی اجازت دے دی

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سابق وفاقی وزیر سید خورشید شاھ نے ہائی کورٹ بار سکھر سے خطاب کرتے هوئے کها هئے که سکھر بار سیاسی طور پر پاکستان کے چند بار ایسوسیشن میں سے بھتر پوزیشن پر ہے سکھر بار نے ہمیشہ جمھوری اور پارلیمانی نظام کی حمایت کی ہے جمھوریت کیلئے کالے کوٹ نے ڈنڈے کھائے آنسوں گیس کے شیل اور جیل کی سختیاں برداشت کیں ۔ پاکستان بننے کے بعد چوتھا لا کالیج سکھر میں بنا تھا ملک کے سیاسی حالات غیر یقینی کے ہیں پارلیمنٹ نے مدت پوری کرلی لیکن ابھی معلوم نہیں الیکشن کب ہونگے آئین واضع ہے کہ 90 دن میں الیکشن ہونے ہیں حلقہ بندیاں کب ہونگی اگر ایک ماھ میں ہو بھی جائیں تب بھی معلوم نہیںنامزدگی فارم کب بھرے جائیں گے سب کی خواھش ہے کہ آئین کے تحت ملک میں جمھوری پارلیمانی نظام ہونا چاہیئے پارلیمنٹ کے فیصلوں کو ڈس اون کیا جاتا ہے عدالت پارلیمنٹ کے قانون کی تشریح کر کے ریمارکس دے تی ہے پارلیمان تمام اداروں کی ماں ہے آئین کے ہوتے ہوئے ہم اپنے مسائل کو لائین آپ نہیں کر سکے میں دو سال ایک ماھ جیل میں رہا 14ماھ سپریم کورٹ میں ضمانت کیلئے جاتا رہا۔وہاں سے صرف تاریخ ملتی رہی سپریم کورٹ میں کسی شخص کا کیس لگتا تھا تو ساڈھے سات منٹ میں ضمانت مل جاتی ہے ادارے جب آئین سے ہٹ کر فیصلے دیتے ہیں تو دوسرا ادارہ اس کی پیروی کرتا ہے ریاست کا نظام اس وجہ سے گڑ بڑ ہوجاتا ہے ریاست جب کمزور ہوتی ہے تو نقصان عوام کا ہوتا ہے قانون موجود ہے کہ الیکشن 90 دن میں ہونے ہیں تین دن گزر چکے ہیں سندہ کے وزیر اعلی حلف نہیں اٹھا سکے کیوں کے گورنر اسلام آباد میں موجود ہیں 18 ویں ترمیم کچھ لوگوں کو پسند نہیں پارلیمنٹ کو ججز کی تعداد کم کرنے پر مجبور کیا گیا اگر پارلیمانی کمیٹی کے تحت ججز بھرتے ہوتے تو وہ کیسی کے دباؤ میں نہیں آتے ۔ ڈکٹیٹر جس نے جمھوریت پر شب خون مارا عدالت نے اسے آئین میں ترامیم کی اجازت دے دی ایک ڈکٹیٹر نے نام نہاد ملائیت کا سلوگن دیا دنیا کا ہر برا کام اس ڈکٹیٹر نے کروایا آج اس کی برسی ہے 42سال سے ہم دہشتگردی کا شکار ہیں جس نے گھروں کے گھر برباد کر دیئے سکھر میں کینسر اسپتال برنس آورد اور ٹراما سینٹر قائم کیا جائے گا ۔ ہائیکورٹ بار کو وفاقی حکومت اور لا منسٹری کینجانب سے 40 لاکھ ڈسٹرکٹ بار سکھر اور گھوٹکی کیلئے 25/25 لاکھ دیئے گئے ہیں
شیئر کریں:

0 تبصرے

تبصرہ کریں

مطلوب خانہ
مطلوب خانہ