جکھرانی برادران کے درمیان صلح ہوگئی، خالد جکھرانی کی اعجاز جکھرانی سے معافی، جائیدادوں کا فیصلہ 30 نومبر کو ہوگا
کراچی (ویب ڈیسک) جکھرانی برادران کے درمیان جاری تنازع ختم کرانے کے لیے سیاسی رہنماؤں کی کوششوں کے بعد صلح کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خالد جکھرانی کے حامیوں کی جانب سے اعجاز خان جکھرانی کے پاس جرگہ لے جانے کے بعد دونوں فریقین کے درمیان صلح ہوگئی ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما شبیر علی بجارانی، غلام مصطفیٰ شاہ، سہیل انور سیال، نادر مگسی اور دیگر سیاسی رہنما سہیل انور سیال کی رہائش گاہ سے جرگے کی صورت میں اعجاز جکھرانی کے گھر پہنچے، جہاں دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات ہوئے۔
اس موقع پر شبیر علی بجارانی نے دعویٰ کیا کہ خالد جکھرانی نے اعجاز جکھرانی کے پاؤں چھو کر ان سے معافی مانگی، جس پر اعجاز جکھرانی نے انہیں معاف کر دیا۔
شبیر علی بجارانی کے مطابق اعجاز جکھرانی نے آزاد جکھرانی کو معاف نہیں کیا، کیونکہ زید جکھرانی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ طے پانے والے معاملات کے تحت آزاد جکھرانی ایک سال تک جیکب آباد نہیں آئیں گے۔
دوسری جانب نادر مگسی نے کہا کہ اعجاز جکھرانی کا دل نرم ہوا ہے، اسی لیے انہوں نے جرگے کی بات تسلیم کی ہے۔
صلح کی شرائط کے مطابق 11 نومبر کو اعجاز جکھرانی کا فریق خالد جکھرانی کے پاس جرگہ لے کر جائے گا، جبکہ دونوں فریقین کی جائیدادوں سے متعلق فیصلہ 30 نومبر کو کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ جکھرانی برادران کے درمیان اختلافات ختم کرانے کے لیے کراچی میں سہیل انور سیال کی رہائش گاہ پر ہونے والے مذاکرات میں خالد جکھرانی کے فریق کی جانب سے اعجاز جکھرانی کے پاس جرگہ لے جانے پر اتفاق کیا گیا تھا، جس کے بعد سیاسی رہنما جرگے کی صورت میں اعجاز جکھرانی کی رہائش گاہ پہنچے۔
اس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل انور سیال نے بتایا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ جائیداد کا تنازع نہیں بلکہ زید خان جکھرانی کی ہلاکت ہے۔
سہیل انور سیال نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری، فریال تالپور اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی کوششوں سے دونوں فریقین کے درمیان صلح کرانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فریقین کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ جکھرانی برادران کی غلط فہمیاں دور کرکے انہیں صلح پر آمادہ کیا جائے۔