سندھ میں بلدیاتی سہولیات کی بہتری کے لیے عالمی بینک نے 15 کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی
عالمی بینک نے سندھ میں بلدیاتی سہولیات کو بہتر بنانے اور جائیدادوں پر عائد ٹیکس کی وصولی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے 15 کروڑ ڈالر کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق منصوبے کے تحت کراچی میں جائیدادوں پر عائد ٹیکس کی سالانہ وصولی 85 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 8 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ٹیکس ادا کرنے کی شرح بھی 20 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد تک لائی جائے گی۔
اس منصوبے سے کراچی کی 25 بلدیاتی کونسلوں کے 35 لاکھ 80 ہزار شہری مستفید ہوں گے، جبکہ جائیدادوں پر ٹیکس کی وصولی کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔
اعلامیے کے مطابق جائیدادوں پر عائد ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 70 فیصد حصہ بلدیاتی سہولیات پر خرچ کیا جائے گا۔ ان سہولیات میں بارش کے پانی کی نکاسی، گندے پانی کی نکاسی کے نظام کی بہتری، اسکولوں کی سہولیات، سڑکوں کی مرمت اور بحالی، فائر بریگیڈ مراکز اور گلیوں کی روشنی کے انتظامات کو بہتر بنانا شامل ہے۔
عالمی بینک کے مطابق سندھ کی بلدیاتی کونسلوں کی 95 فیصد سے زائد آمدنی صوبائی حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی مالی معاونت پر منحصر ہے۔
منصوبے کے تحت سندھ کے دیگر شہروں کی 20 بلدیاتی کونسلوں میں بھی جائیدادوں کی مالیت کا تعین کرنے کے لیے سروے کیا جائے گا، جس سے ان شہری علاقوں کے 45 لاکھ افراد بالواسطہ طور پر مستفید ہوں گے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ دیگر شہری مراکز میں جائیدادوں پر ٹیکس کی وصولی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے 4 کروڑ ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔
بلدیاتی کونسلوں کو مالی معاونت ہر سال ان کی کارکردگی کے جائزے کے بعد فراہم کی جائے گی، جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ بلدیاتی انفراسٹرکچر کی مرمت اور بحالی بھی اس منصوبے کا حصہ ہوگی۔